مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اپنی بے لگام کارروائیاں فوری طور پر روکے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے۔
تفصیلات کے مطابق، ترک وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الظهور ایئر بیس پر اسرائیلی فضائی حملے سے قبل اور حملے کے دوران کوئی ترک فوجی وفد موجود نہیں تھا۔
ترک وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی بے لگام کارروائیاں روک کر شام اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔
بیان میں شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انقرہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور ایک مستحکم و محفوظ ماحول کے قیام کے لیے اپنی کوششیں اور تعاون جاری رکھے گا۔
ترک وزارت دفاع نے مزید کہا کہ انقرہ شام کی جانب سے اپنی فوجی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کی کوششوں کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ صہیونی حکومت نے منگل کی صبح شمالی شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الظهور ایئرپورٹ کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے حملے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ترکی کی جانب سے مذکورہ ایئرپورٹ پر فوجی سازوسامان نصب کرنے کی کوشش کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔
تاہم ترک صدارتی دفتر نے چند گھنٹے بعد اسرائیلی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی جانب سے ابو الظهور ایئرپورٹ پر فوجی سازوسامان نصب کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ