مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی عوامی مزاحمتی تنظیم الحشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض نے کہا ہے کہ ایران نے ایک تقریباً عالمی نوعیت کی جنگ کا سامنا کیا اور بڑے چیلنجز کے باوجود اس کے مقابل ثابت قدم رہا۔
عراقی میڈیا کے مطابق فالح الفیاض نے مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک بہت بڑی جنگ کے سامنے کھڑا تھا اور اس نے اس صورتحال میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام سرکاری عہدے چھوڑ دیے ہیں، کیونکہ الحشد الشعبی میں اپنی ذمہ داری کو وہ ہر اعزاز سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔
عراق میں ہتھیاروں کو صرف ریاستی اختیار میں رکھنے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے الفیاض نے کہا کہ طاقت کے ذریعے اس مقصد کو نافذ کرنے کی کوشش تصادم کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ایسا نہیں ہوگا۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ستمبر کے آخر میں مسلح گروہوں کے ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کی مہلت ختم ہونے کے بعد عراق میں عراقیوں کے درمیان کوئی مسلح تصادم نہیں ہوگا۔
الفیاض نے کہا کہ یکم اکتوبر کے بعد کسی بھی علانیہ غیر ریاستی ہتھیار کو قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ تاریخ عراق کے لیے ایک نئے مرحلے اور نئے دن کی علامت ہوگی۔
الحشد الشعبی کے سربراہ نے واضح کیا کہ اگرچہ عراق میں الحشد الشعبی اور بعض مسلح گروہوں کے درمیان کچھ مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن الحشد الشعبی ان گروہوں کا ذمہ دار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق کی صورتحال پیچیدہ ہے، الحشد الشعبی ایک مکمل عراقی تجربہ ہے اور یہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کا کوئی نسخہ نہیں ہے۔
الفیاض نے دعوی کیا کہ خطے میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران الحشد الشعبی نے ایک بھی گولی نہیں چلائی، جبکہ اس کے مراکز کو تقریباً 100 مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ الحشد الشعبی عراقی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ماتحت ایک فوجی ادارہ ہے اور عراق میں جنگ سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔
الفیاض کے مطابق خطے کی موجودہ جنگ نے پہلے ہی عدم استحکام کا شکار عراق پر ایک ناپسندیدہ صورتحال مسلط کر دی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ہتھیار رکھنے کی قانونی حیثیت کا مسئلہ امریکی قبضے کی موجودگی سے جڑا ہوا تھا، اور امریکہ کے عراق سے انخلا کے بعد سب کو مل کر ایک نئے ماحول کے قیام اور طاقت کے توازن کو درست بنیادوں پر تشکیل دینے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ