18 اگست، 2026، 1:53 PM

عبرانی اخبار کا مقبوضہ علاقوں سے صہیونیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا اعتراف

عبرانی اخبار کا مقبوضہ علاقوں سے صہیونیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا اعتراف

عبرانی اخبار معاریو نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں مقبوضہ فلسطین واپس آنے والے صہیونیوں کی تعداد میں 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ لاکھوں افراد کے علاقے چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک عبرانی اخبار نے موجودہ چیلنجز اور سیکورٹی بحران کے باعث صہیونیوں کی مقبوضہ فلسطین سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اعتراف کیا ہے۔

معاریو کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم خطے میں اپنے نام نہاد کامیابیوں پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم صہیونیوں کی ہجرت کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ علاقوں کو اندرونی بحران اور مختلف محاذوں پر جنگوں میں شدت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمان کے تحقیقی مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران مقبوضہ علاقوں میں واپس آنے والے صہیونیوں کی تعداد میں 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاکھوں صہیونی مقبوضہ علاقوں کو چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد واپس نہیں آئی۔ مقبوضہ علاقوں سے یہ نقل مکانی 2023 سے شروع ہوئی اور اس کے بعد اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی اور سماجی مشکلات کے باعث مقبوضہ علاقوں میں واپس آنے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں رہا۔ واپس آنے والے افراد کے لیے مناسب تنخواہ والی ملازمت تلاش کرنا بھی مشکل ہے، جبکہ غیر اسرائیلی شریک حیات کی قانونی حیثیت مستحکم کرنے کا عمل سات سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

معاریو کی رپورٹ کے مطابق یہ عوامل مقبوضہ علاقوں سے صہیونیوں کی نقل مکانی اور واپسی میں کمی کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔

News ID 1940738

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha