23 جون، 2026، 2:51 PM

صہیونی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو چھوڑنے پر غور کرنے لگے، الٹی ہجرت کا رجحان بڑھ گیا

صہیونی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو چھوڑنے پر غور کرنے لگے، الٹی ہجرت کا رجحان بڑھ گیا

ایک صہیونی تحقیقی مرکز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلسل جنگوں، معاشی مشکلات، روزگار کے محدود مواقع اور بڑھتی ہوئی سماجی خلیج کے باعث مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے ہجرت میں اضافہ جبکہ نئی آبادکاری میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک صہیونی تحقیقی مرکز کی رپورٹ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے بڑھتی ہوئی ہجرت اور ان علاقوں میں واپسی کی کم ہوتی شرح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صہیونی تحقیقی مرکز "تاوب" کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ایسے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے ہجرت میں اضافے اور ان علاقوں کی کشش میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2022 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پیدا ہونے والے صہیونی باشندوں کے درمیان ہجرت کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ہجرت کی شرح گزشتہ دہائی کے تمام ریکارڈ شدہ اعداد و شمار سے تجاوز کر چکی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2025 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جانب ہجرت کی شرح 2014 کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑھتی ہوئی الٹی ہجرت کے ساتھ ساتھ یہ علاقے نئے آبادکاروں کے لیے اپنی کشش بھی کھوتے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صہیونی حکومت مسلسل دوسرے سال ایسی صورت حال سے دوچار ہے جس میں مقبوضہ علاقوں سے نکلنے والوں کی تعداد وہاں آنے والوں سے زیادہ ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں الٹی ہجرت کا رجحان مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں اس صورت حال کی بنیادی وجوہات کے طور پر جاری جنگوں، ان کے معاشی اثرات، روزگار کے مواقع میں کمی، غربت میں اضافہ، تنہائی کے احساس اور بڑھتی ہوئی سماجی خلیج کو قرار دیا گیا ہے۔

News ID 1939930

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha