28 اگست، 2026، 9:56 PM

ایرانی قوم کی عظمت کے مطابق عوامی خدمت کو یقینی بنایا جائے، رہبر معظم

ایرانی قوم کی عظمت کے مطابق عوامی خدمت کو یقینی بنایا جائے، رہبر معظم

رہبر انقلاب اسلامی ایران نے ہفتۂ حکومت کے موقع پر اپنے پیغام میں حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایران کی طاقت و قوت کو اجاگر کرنے، قومی و عوامی حوصلوں کو کمزور کرنے والی باتوں سے گریز اور سماجی اتحاد و یکجہتی کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ حکومت کے موقع پر اپنے پیغام میں حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکومتی اداروں اور ذمہ دار حکام کی خدمت گزاری کو محسوس کریں۔

رہبر انقلاب نے صدر مملکت اور حکومت کے تمام کارکنوں اور ذمہ داران کو ہفتۂ حکومت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے صادق اور عوام دوست صدر کی جانب سے انجام دیے گئے اقدامات کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات امریکی۔صہیونی دشمن کی مختلف سازشوں، پابندیوں اور محاصروں میں اضافے کے باوجود مسلط کردہ تیسری جنگ کے دوران اور اس کے بعد عوام کو درکار اشیا اور خدمات کی فراہمی، اہم مقامات کی بحالی اور توانائی کے انتظام کے لیے انجام دیے گئے۔

انہوں نے شہید صدر محمد علی رجائی، شہید صدر سید ابراہیم رئیسی، شہید وزیراعظم محمدجواد باہنر اور حکومت کے مختلف ادوار میں شہید ہونے والے کارکنوں، وزرا اور ذمہ داران کی یاد بھی تازہ کی اور ان کے لیے بلند درجات اور الٰہی عنایات کی دعا کی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ عوام اور اسلامی جمہوریہ کے اہداف کی خدمت کا موقع ایک قیمتی نعمت ہے جس کی قدر کی جانی چاہیے۔ موجودہ پیچیدہ اور حساس حالات میں ایک مضبوط تر ایران کے حصول کے لیے شبانہ روز کوشش اور مسلسل جدت کے ساتھ ایران اور اس کی قوم کی طاقت و قوت کو بیان کرنا اور اسے نمایاں کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کمزوریوں، نقائص اور کمیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات دشمن کے حوصلے کو تقویت دینے والے حالات میں اپنی کمزوریوں کا سچا بیان بھی دشمن کی بڑی مدد ثابت ہوسکتا ہے اور دوستوں اور حامیوں میں تشویش پیدا کرکے انہیں سرگرداں کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس ایران کی قوت، طاقت اور مثبت پہلوؤں کو قرآنی تعلیمات کے مطابق بیان اور نمایاں کیا جانا چاہیے۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ایرانی عوام نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران دشمن کے مقابلے میں مختلف میدانوں میں جدوجہد، میدانوں میں موجودگی، اتحاد، ہمدلی اور تعاون کے ذریعے اپنی حقیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس بات کے شایانِ شان ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام محکموں اور ذمہ دار اداروں کی خدمت گزاری کو اس مقدس نظام کی مطلوبہ سطح اور اس عظیم قوم کے بلند مقام کے مطابق محسوس کریں۔

انہوں نے اقتصادی اور معاشی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں اور اشیا و خدمات کی منڈی کے انتظام، اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے، سرمایہ کاری کو مفید اور ضروری شعبوں کی جانب رہنمائی، پیداوار کے فروغ اور ملکی معیشت میں ڈالر کے کردار کو بتدریج کم کرنے سمیت مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کو محور بنانے پر زور دیا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ان مسائل کے حل کی بنیادی کنجی داخلی پیداوار پر زیادہ سے زیادہ انحصار میں ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ضروری اشیائے عامہ اور تخصصی اشیا کی مناسب مقدار میں دستیابی بھی ناگزیر ہے اور جہاں ملکی پیداوار کافی نہ ہو وہاں درست اور دانشمندانہ انداز میں درآمدات سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ درآمدات اور قیمتوں کا بہتر انتظام اقتصادی میدان میں موجود مسائل کو بتدریج کم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق دشمن کی جنگ اور اس کے بعد کی کارروائیاں اگرچہ اثرانداز ہوتی ہیں، تاہم مختلف شعبوں کے زیادہ دانشمندانہ انتظام، عوام کی مدد، ماہرین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے استفادے اور نئی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک کو ترقی اور آبادانی کی سمت لے جایا جاسکتا ہے۔

رہبر انقلاب نے نوجوان ماہرین کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجیز اور اختراعات کے استعمال کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ بعض معاملات میں بروقت نئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور معمول کے طریقۂ کار اور رائج عادات کو ترک کرنا ملک کی ترقی اور پیشرفت میں مؤثر چھلانگ کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق زراعت، صنعت، ثقافت، تعلیم و تربیت، مواصلات اور سماجی امور سمیت طاقت پیدا کرنے کے مختلف شعبوں میں اس امر کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے سماجی اتحاد اور یکجہتی کو ملک کے بنیادی مسائل میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی، سماجی، سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی سمیت ہر بڑے شعبے میں کوئی بھی اقدام سماجی انسجام کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مایوس کن بات، قومی اور عوامی حوصلوں کو کمزور کرنے والا بیان اور فرضی دوگانگی پیدا کرنے والی ہر کوشش، جیسے جنگ یا مذاکرات، وفاق یا انتہا پسندی، مفاہمت یا جنگ پسندی، ماضی کی طرح آئندہ بھی ایرانی عوام کو براہِ راست یا بالواسطہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔

رہبر انقلاب نے اس حوالے سے دوٹوک اعلان کیا کہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے ہر اقدام کا ارتکاب ممنوع ہے۔

انہوں نے ثقافت، تعلیم اور تربیت کو بھی حکومت اور تمام حکومتی ذمہ داران کی ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیگر تمام حکمتِ عملیوں کو مرتب کرتے وقت ثقافت، تعلیم اور تربیت کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے اس شعبے میں ان طبقات پر خصوصی توجہ کی ضرورت پر زور دیا جو مثبت اور تعمیری ثقافت کے فروغ کا ذریعہ ہیں، جن میں اسکولوں، جامعات اور حوزہ ہائے علمیہ کے اساتذہ، نیز نجی اداروں میں اپنی ذمہ داری کے لیے خود کو وقف کرنے والے نرسز اور ڈاکٹرز شامل ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے گھر میں بچوں کی تربیت اور مستقبل کی ثقافت کی تشکیل میں گھریلو خواتین کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ خواتین اپنے گھروں کی حدود میں ملک کے ہر بچے کو مستقبل کی خوبصورت اور مطلوبہ ثقافت کے نہایت حساس اجزا سکھاتی ہیں۔

رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ان نکات اور حکومت کے پروگرام میں شامل دیگر مفید امور پر عمل درآمد کے ذریعے ایران کو ایک مضبوط تر ایران کی جانب لے جایا جائے گا اور اس راستے پر سرگرم افراد حضرت ولی عصر امام مہدیؑ کی خصوصی توجہ، دعائے خیر، برکت اور ہدایت کے مستحق قرار پائیں گے۔

News ID 1940953

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha