28 اگست، 2026، 10:57 PM

امریکا کے خلاف آئندہ معرکے کے لیے نئے ہتھیار تیار ہیں، ترجمان وزارت دفاع

امریکا کے خلاف آئندہ معرکے کے لیے نئے ہتھیار تیار ہیں، ترجمان وزارت دفاع

ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ایران نے ممکنہ آئندہ جنگ کے لیے نئے ہتھیار، دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجیز اور جنگی حکمتِ عملی تیار کرلی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ایران نے ممکنہ آئندہ جنگ کے لیے نئے ہتھیار، دفاعی سازوسامان اور تکنیکی و حربی صلاحیتیں تیار کرلی ہیں، جبکہ ان میں شامل بعض حیرت انگیز صلاحیتیں مستقبل کی جنگوں میں میدان جنگ میں ظاہر کی جائیں گی۔

انہوں نے ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران انتہائی حساس حالات کا سامنا کیا، جن میں دو جنگیں، سکیورٹی خطرات اور خطے میں تیز رفتار تبدیلیاں شامل تھیں۔

ترجمان نے کہا کہ حملوں کے وسیع جغرافیائی دائرے اور دشمن کی بھاری فائر پاور کے باوجود حکومت نے مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے میں فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور مرکزی خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی بھرپور حمایت کی، جس کے نتیجے میں دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

بریگیڈیئر جنرل طلائی نیک نے کہا کہ حالیہ جنگوں میں ہونے والے نقصانات کے باوجود ان حالات نے سیاسی، سماجی، سائنسی، صنعتی اور دفاعی شعبوں میں پیشرفت کے مواقع بھی پیدا کیے۔ دفاعی صنعت نے جنگ سے قبل ہتھیاروں، سازوسامان اور گولہ بارود کے اسٹریٹجک ذخائر تیار کرلیے تھے، جبکہ جنگ کے دوران بھی پیداوار جاری رہی۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی پیداوار کے عمل میں تقریبا 9,300 کمپنیاں شامل ہیں، جو دفاعی صنعت کی تقریباً دو تہائی ضروریات کو پورا کرتی ہیں، جبکہ بعض دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کی اسلحہ سازی کی صلاحیت دوگنا سے زیادہ ہوچکی ہے، جبکہ بعض مصنوعات کی پیداوار میں مزید کئی گنا اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سمیت مختلف شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے، جبکہ اضافی پیداوار کی صورت میں اسلحے کی برآمدات بھی جاری رہیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایران ایک ہزار سے زائد اقسام کے ہتھیار، دفاعی سازوسامان اور گولہ بارود تیار کرتا ہے اور دفاعی شعبے میں خودکفالت کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی صنعت اب صرف ریورس انجینئرنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض شعبوں میں مقامی ٹیکنالوجی اور مقامی ڈیزائن تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل طلائی نیک نے جنگ کے دوران ایران کی مزاحمت کو سب سے بڑی حیرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو توقع تھی کہ ابتدائی دنوں میں ایران کی فوجی، دفاعی، اقتصادی اور سماجی صلاحیتیں مفلوج ہوجائیں گی، لیکن اس کے برعکس ایران نے اپنی صلاحیت اور مزاحمت برقرار رکھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی بدستور مشترکہ اور غیر متناسب نوعیت کی ہے، جس میں دفاعی فریم ورک کے اندر بازدارندگی کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کے ساتھ جارحانہ طریقۂ کار بھی شامل ہے تاکہ دشمن کو جنگ میں پہل کرنے کا موقع نہ ملے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور 12 روزہ جنگ کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق پر عمل درآمد کے نتیجے میں بعد کی جنگ میں جانی نقصانات میں نمایاں کمی آئی۔

News ID 1940956

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha