17 اگست، 2026، 1:31 PM

جنوبی لبنان میں حماس کے مزاحمتی محاذ کی توسیع پر صہیونی حلقوں میں تشویش

جنوبی لبنان میں حماس کے مزاحمتی محاذ کی توسیع پر صہیونی حلقوں میں تشویش

ایک صہیونی تحقیقی ادارے نے حماس اور حزب اللہ لبنان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے 2 ہزار افراد پر مشتمل مزاحمتی فورس کی تشکیل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت سے وابستہ مطالعاتی مرکز برائے اطلاعات و سلامتی نے ایک تجزیے میں قابض فوج سے منسوب دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی لبنان کے محاذ پر بڑھتی ہوئی فعالیتوں اور تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لیا ہے اور محور مزاحمت سے وابستہ گروہوں کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تزویراتی روابط پر تشویش ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے ایک حصے میں 2021 کی سیف القدس جنگ کے دوران مشترکہ آپریشن روم کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے بعد شہید یحیی سنوار کی کوششوں سے حماس کے 2 ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک جنگی فورس کو منظم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تاکہ حزب اللہ کی خصوصی یونٹ رضوان کے ساتھ میدان میں تعاون کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق تاریخی طوفان الاقصی آپریشن کے بعد بھی اس ڈھانچے نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں صہیونی اہداف کے خلاف درجنوں میزائل اور جنگی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔

اس صہیونی مرکز کے ماہرین نے لبنان کے فلسطینی کیمپوں کے رہائشیوں میں حماس کی وسیع مقبولیت اور اثر و رسوخ کا بھی اعتراف کیا ہے۔

News ID 1940719

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha