15 اگست، 2026، 1:42 PM

خون کے آخری قطرے تک دشمن کے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے، شیخ نعیم قاسم

خون کے آخری قطرے تک دشمن کے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے، شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ مزاحمت کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گی اور لبنان کے دفاع اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے کے لیے آخری قطرہ خون تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے 2006 کی جنگ میں مزاحمت کی فتح کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے اہم نتائج میں سے ایک صہیونی دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کی دفاعی قوت کا مستحکم ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے 2006 کی جنگ کو صہیونی حکومت کے خلاف جنگ وعدہ صادق کا نام دیا تھا، کیونکہ اسرائیل نے لبنان کے خلاف وسیع جارحیت کا آغاز کیا تھا۔ اس کارروائی کے نتائج میں قیدیوں کی رہائی بھی شامل تھی۔ دو اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے واقعے کو ایک وسیع جنگ شروع کرنے کا بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے تھا، تاہم بعد میں واضح ہوا کہ اسرائیل امریکہ کے تعاون سے ستمبر میں ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اس وقت نام نہاد نئے مشرق وسطی کا منصوبہ ایک بڑا منصوبہ تھا، لیکن بالآخر یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ 2006 کی جنگ اسرائیل اور اس کے حامی امریکہ کی لبنان کی اسلامی مزاحمت، فوج اور عوام کے اتحاد کے مقابلے میں شکست پر ختم ہوئی۔ یہ جنگ لبنان کے خلاف ایک جارحیت تھی اور مزاحمت نے اس کا مقابلہ کربلائی جذبے کے ساتھ کیا۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 2006 کی جنگ کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ 2006 سے 2023 تک صہیونی دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کی دفاعی قوت برقرار رہی، جو مزاحمت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت یہ جنگ شروع نہ ہوتی تو کسی اور وقت شروع ہوجاتی۔

شیخ نعیم قاسم نے بعض لبنانی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مزاحمت کے ہتھیار کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے اور اس کے خلاف موقف اختیار کرتے ہیں، جبکہ انہوں نے مزاحمت کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ ان کے مطابق 2006 کے واقعات نے ثابت کیا کہ مزاحمت حالات اور طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جس شخص نے مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے کی امید لگا رکھی ہے، وہ خوابوں کی دنیا میں ہے اور مزاحمت کو اچھی طرح نہیں جانتا۔ لبنان اس وقت ایسے راستوں کے سامنے کھڑا ہے جن کا نتیجہ تسلیم کرنے اور زوال کے سوا کچھ نہیں۔

شیخ نعیم قاسم نے بیروت کی جانب سے دستخط کیے گئے نام نہاد فریم ورک معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ کوئی حقیقی معاہدہ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی حقیقی فریم ورک موجود ہے، بلکہ یہ صہیونی احکامات کا مجموعہ ہے جس میں اسرائیل کی تمام خواہشات شامل ہیں۔ اس عمل میں لبنانی ٹیم صرف امریکہ اور اسرائیل کی پیروی کرتی رہی۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے سات ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان مذاکرات سے لبنان کو کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حکام کو اپنی ناکامی تسلیم کرکے عوام کی طرف واپس آنا چاہیے اور متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہیے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان کو مزاحمت، اتحاد اور قومی طاقت سمیت اپنے تمام وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بیروت فوج کی توہین اور لبنانی فوجیوں کو نشانہ بنائے جانے کو کیسے قبول کرسکتا ہے؟

انہوں نے ان نام نہاد آزمائشی علاقوں کے قیام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حزب اللہ کو ان مذاکرات پر کوئی اعتماد نہیں۔ لبنانی حکام نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتوں میں قانونی کارروائی کے اپنے حق سے رضاکارانہ طور پر دستبرداری اختیار کی ہے، جو ایک سنگین غلطی ہے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اسرائیلی جارحیت کا تسلسل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ کی سرپرستی میں لبنان کو نشانہ بنانا بھی قابل قبول نہیں ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے باوجود اسلام آباد معاہدے کی دستاویز نے صہیونی دشمن کو قابو کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر مجبور کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کی جنگ دفاعی جنگ ہے اور جنگ مسلط کرنے والا صہیونی دشمن ہے۔ اگرچہ طاقت کا توازن مزاحمت کے حق میں نہیں، لیکن مزاحمت تسلیم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ہونا چاہیے اور اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے مزاحمت کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے بغیر مر جائیں گے اور آخری قطرہ خون تک لڑتے رہیں گے، ہم آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کی استقامت اور ایران کی جانب سے اسلام آباد معاہدے میں لبنان کو پہلی شرط کے طور پر شامل کرانے کے اقدام نے صہیونی دشمن کو روکنے میں کردار ادا کیا۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ اسی راستے پر قائم ہے جس کی نشاندہی امام موسی صدر نے کی تھی، جنہوں نے اسرائیل کو مطلق شر قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ سید مقاومت سید حسن نصر اللہ کے راستے کو بھی جاری رکھے گی۔

News ID 1940686

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha