15 اگست، 2026، 12:09 PM

امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، عراقچی

امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے بحری راستے کے تعین پر فنی مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ جنگ بندی کا نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ امریکہ کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد دوبارہ کشیدگی کا آغاز ہوا۔

عراقچی نے ایک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں ’’جنگ کا خاتمہ‘‘ درج تھا۔ مذکورہ یادداشت میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

انہوں نے 60 روزہ جنگ بندی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو 60 دن زیر بحث تھے، وہ کسی جنگ بندی کی مدت نہیں بلکہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کرنے کی مدت تھی۔ لہذا 60 روزہ جنگ بندی نام کی ایسی چیز موجود نہیں تھی جس میں اب توسیع کی جائے۔

عراقچی نے بتایا کہ ثالث ممالک قطر اور پاکستان مختلف پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، تاہم ان رابطوں کو مذاکرات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے بالکل الگ ہے اور اس کا تعلق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے سمندری راستوں کے تعین سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود بحری راستے اب قابل استعمال نہیں رہے، اس لیے ایک نیا راستہ متعین کرنا ضروری ہے۔ ایران اور عمان اس وقت ایک عارضی بحری راستے کے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں، جسے بعد میں حتمی راستے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

عراقچی کے مطابق یہ مذاکرات مکمل طور پر فنی نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک کے ماہرین ان میں شریک ہیں۔ ایرانی مسلح افواج بھی اس عمل میں شامل ہیں کیونکہ بحری راستوں کے حوالے سے اصل ماہر اور فیصلہ کن ادارہ وہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے میں جلد پیش رفت ہوسکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری راستے کے تعین اور آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کے معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔

ان کے مطابق پہلے فنی مذاکرات کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے راستہ متعین کیا جائے گا، تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ دیگر شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔

عراقچی نے واضح کیا کہ امریکہ کو ان شرائط کی پابندی کرنا ہوگی اور ان شرائط کے پورا ہونے کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جاسکے گا۔

News ID 1940685

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha