مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کی اسلامی مقاومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ہادی العامری کی درخواست اور متعدد عراقی سیاسی رہنماؤں کے مؤقف کی حمایت میں امریکی سعودی حملوں کے خلاف اپنی طے شدہ جوابی کارروائی فی الحال مؤخر کردی ہے۔
مزاحمتی گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کارروائی کو صرف مؤخر کیا گیا ہے، منسوخ نہیں کیا گیا۔ گروپ نے کہا کہ شہداء کا خون سیاسی مفادات کے بازار میں سودے بازی کی کوئی چیز نہیں اور اس خون کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
عراقی اسلامی مقاومت نے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی خودمختاری کمزور اور محتاط بیانات کے ذریعے بحال نہیں ہوگی بلکہ وفاداروں کی عملی مزاحمت کے ذریعے اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
مقاومت کا یہ اعلان ہادی العامری کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام میں عراقی اسلامی مزاحمت سے جوابی کارروائی مؤخر کرنے کی اپیل کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
بدر تنظیم کے سربراہ اور عراق کے بااثر شیعہ سیاسی رہنماؤں میں شمار ہونے والے ہادی العامری نے اسلامی مزاحمت سے اپیل کی تھی کہ حالیہ امریکی سعودی حملوں کے جواب میں کسی بھی کارروائی کو مؤخر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ عراقی اسلامی مزاحمت میں موجود اپنے ساتھیوں اور بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ عراق کو نشانہ بنانے والے امریکی سعودی حملے کے جواب کو مؤخر کیا جائے اور عراق کے اعلی قومی مفاد کی خاطر ان زخموں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔
العامری نے مزید کہا کہ شہداء اور زخمیوں کے حقوق کے حصول کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت اس مبینہ ڈیڈ لائن کے بعد سامنے آئی ہے جو عراقی مزاحمت نے حالیہ حملوں کے جواب میں کارروائی سے قبل عراقی حکومت کے لیے مقرر کی تھی۔
آپ کا تبصرہ