مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابنِ رضا نے اسلامی ممالک پر مشتمل مشترکہ سکیورٹی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کی موجودگی عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔
ترک وزیر دفاع یاشر گولر سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری خود علاقائی ممالک کو اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے ایران، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز دی۔
ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت خطے میں استحکام کی بحالی اور دوست و ہمسایہ ممالک کی درخواست پر طے کی گئی، تاہم واشنگٹن کے وعدہ خلافیوں کے طویل ریکارڈ کے باعث ایران کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متناسب جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے غزہ، لبنان، شام اور ایران میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی حمایت نے اسرائیل کو مزید جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے متعلق حالیہ امریکی بیانات پورے خطے کو نئی سلامتی کی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں، جبکہ شام اور لبنان میں نام نہاد سکیورٹی زون قائم کرنے کے اسرائیلی منصوبے ایک وسیع تر بحران کا پیش خیمہ ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن رضا نے کہا کہ پائیدار سلامتی بیرونی طاقتوں پر انحصار سے حاصل نہیں ہو سکتی، اسی لیے ایران ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے اور ایک نئی، دیرپا علاقائی سکیورٹی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر ترک وزیر دفاع یاشر گولر نے ایران کے سپریم لیڈر، فوجی کمانڈروں، شہریوں اور میناب میں جاں بحق ہونے والے اسکول کے بچوں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد اور سفارتی عمل کے تسلسل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اپنے ہمسایہ ممالک کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور انسداد دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور علاقائی امور میں ایران کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں مستقل امن کا واحد راستہ علاقائی ہم آہنگی اور تعاون ہے۔
آپ کا تبصرہ