مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن قوتیں اسلامی ممالک میں بحران ایجاد کر کے پورے خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ دینا چاہتی ہیں، لیکن ایرانی عوام کی بھرپور اور باشعور شرکت نے حالیہ بدامنی کے تمام منصوبے ناکام بنا دیے۔
صدر پزشکیان نے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کی حالیہ صورتحال، علاقائی سلامتی اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے حکومت کے حق میں نکلنے والے بڑے مظاہروں نے بدامنی پھیلانے والوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی اور برادرانہ حمایت پر ترکیہ کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات میں دشمن عناصر نے معاشی مسائل پر ہونے والے پرامن احتجاجات کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی۔
صدر ایران کے مطابق، پابندیوں کے باعث معاشی مشکلات پر تاجروں اور بعض طبقات کے جائز احتجاجات کو ذمہ دارانہ انداز میں حل کیا جا رہا تھا، لیکن امریکہ اور صہیونی رژیم کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں نے مساجد، عوامی و سرکاری عمارتوں، ہنگامی خدمات اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی شعوری شرکت نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا اور ملک کو عدم استحکام سے محفوظ رکھا۔
صدر پزشکیان نے اسلامی ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے ایران اور ترکی کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے صدر اردوغان کو اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے آئندہ اجلاس کے لیے تہران آنے کی دعوت دی۔
دوسری جانب صدر اردوغان نے حالیہ واقعات میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کا امن، استحکام اور سلامتی ترکی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پرتشدد مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ایران کے منظم اور اصولی طرز عمل کو سراہا اور ایران کے خلاف کسی بھی مداخلت پسندانہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے رہبر، ایرانی حکومت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
آپ کا تبصرہ