مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ریا نووستی کے حوالے سے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ چند گھنٹے قبل روساٹم کے چھ ملازمین پر مشتمل پہلا گروپ ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ واپسی کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد تہران میں تعینات روسی حکام نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔
الیکسی لیخاچیف نے واضح کیا کہ اگرچہ صوبہ بوشہر میں فضائی حملے کیے گئے، تاہم بوشہر جوہری پاور پلانٹ کو کسی بھی حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روساٹم آئندہ چند گھنٹوں کے دوران اپنے مزید عملے کو بوشہر جوہری پاور پلانٹ بھیجنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
دوسری جانب، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایجنسی ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
آپ کا تبصرہ