مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس تحریک کے عسکری ونگ کے سابق ترجمان ابوعبیدہ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ حماس نے اعلان کیا کہ یہ عظیم کمانڈر، جو دشمن کے سامنے بہادری سے ڈٹے ہوئے تھے اور جنہوں نے میدانِ جنگ سے کبھی پیٹھ نہیں پھیری، سرزمینِ پائیداری و جہاد غزه میں صہیونی فوج کی بزدلانہ بمباری کے نتیجے میں اپنے اہل خانہ سمیت شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہو گئے۔
ابوعبیدہ نے فلسطینی قوم کی تاریخِ مقاومت کی سب سے معتبر جنگ، یعنی طوفان الاقصیٰ آپریشن میں اپنی جان اس مقدس مقصد پر نچھاور کر دی جس کی وہ برسوں سے ایک توانا آواز تھے۔
حماس نے اس بیان میں صہیونی دشمن کو خبردار کیا کہ رہنماؤں، کمانڈروں اور مزاحمت کی علامتوں کا قتل ہماری قوم کے ارادوں کو کبھی نہیں توڑ سکے گا۔ یہ جرائم اپنی زمین اور مقدسات کے دفاع میں ہمارے حقوق پر ثابت قدمی اور ہماری طاقت و صلابت میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔ حماس کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ تحریک اپنے رہنماؤں کی شہادت کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور، متحد اور دشمن پر کاری وار کرنے کے لیے فولادی عزم کے ساتھ ابھرتی ہے۔
شہید ابوعبیدہ؛ حماس کی ترجمانی کی ۲۰ سالہ تاریخ:
حماس نے پہلی بار ابوعبیدہ کی اصل شناخت ظاہر کی؛ ابوعبیدہ کا مکمل نام حذیفہ سمیر الکحلوت اور کنیت ابو ابراہیم تھی، جنہوں نے القسام بریگیڈز کے ترجمان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
شہید الکحلوت کی سوانح عمری اور شخصیت
شہید حذیفہ الکحلوت مقبوضہ فلسطین کے گاؤں نعلیہ سے تعلق رکھتے تھے، جہاں سے ان کے خاندان کو ۱۹۴۸ میں بے دخل کر دیا گیا تھا اور وہ شمالی غزہ میں جبالیہ مہاجر کیمپ میں آباد ہو گئے تھے۔
فلسطینی اور صہیونی ذرائع کے مطابق، ان پر کئی بار قاتلانہ حملے کیے گئے اور صہیونی لڑاکا طیاروں نے ۲۰۰۸ میں غزہ کی پٹی کے خلاف پہلی جنگ سے لے کر ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ کی جنگوں تک کئی بار ان کے گھر پر بمباری کی۔ حالیہ نسل کشی کے دوران بھی انہیں شہید کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔
صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت کی ۲۵ جولائی ۲۰۱۴ کی رپورٹ کے مطابق، ابوعبیدہ کی سیکیورٹی کی وجہ سے حساس زندگی ان کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ انہوں نے ۲۰۱۳ میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فنڈامینٹلز آف ریلیجن سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے مقالے کا عنوان یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے درمیان سرزمینِ مقدس تھا۔ وہ مستقبل قریب میں ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری حاصل کرنے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔
سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا کے مطابق، ابوعبیدہ ایک متوازن شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے اپنے رازوں کی ایسی حفاظت کی جس نے انہیں ایک خاص ہیبت اور انفرادیت عطا کی۔ وہ صہیونی فوج اور معاشرے کو نشانہ بنا کر اپنی نفسیاتی جنگ جاری رکھتے تھے۔
القرا کا ماننا ہے کہ ابوعبیدہ کی شخصیت پروپیگنڈا یا میڈیا وار کے ان اہم ترین ہتھیاروں میں سے ایک تھی جسے حماس نے غاصبوں کے خلاف اپنی تمام جنگوں اور مقابلوں میں استعمال کیا۔ جس طرح فلسطینی اور ان کے چاہنے والے ان کے خطاب کے منتظر رہتے تھے، اسی طرح صہیونی فوج، ان کے انٹیلی جنس ادارے اور یہاں تک کہ اسرائیلی رائے عامہ بھی ان پر نظر رکھتی تھی۔
ابوعبیدہ؛ ایک منفرد شخصیت
اس گمنام فلسطینی شہید نے ایسی بے مثال شہرت حاصل کی جس کے وہ کبھی خواہاں نہیں تھے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد، ابوعبیدہ خطرات مول لیتے ہوئے اپنی مخصوص ہیبت، فوجی وردی، سر پر سرخ رومال اور پیشانی پر کتائب القسام کے نام کی سبز پٹی باندھے دشمن کے خلاف میڈیا اور نفسیاتی جنگ کے محاذ پر حاضر ہوتے رہے۔
ابوعبیدہ کو عربی زبان پر خاص مہارت حاصل تھی جس نے انہیں میڈیا کے محاذ پر ایک جنگجو بنا دیا تھا۔ ماہرین اور مبصرین کے مطابق ان کے الفاظ دشمن کے دلوں پر گولیوں کی طرح لگتے تھے اور ان کا یقین و اعتماد ان کے موزوں اور درست الفاظ میں جھلکتا تھا۔
مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوعبیدہ کی شخصیت مختلف پہلوؤں، خاص طور پر طویل عرصے تک اپنی ظاہری شکل، فوجی وردی اور نقاب کو برقرار رکھنے کے حوالے سے منفرد ہے۔
القرا کے مطابق، شہید الکحلوت جتنا اپنی تقریر کے انداز، وقت، الفاظ اور مواد کو اہمیت دیتے تھے، اتنا ہی اپنی ظاہری ترتیب اور موجودگی کو بھی اہمیت دیتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابوعبیدہ نے ان اوقات میں بھی میڈیا پر اپنی موجودگی برقرار رکھی جب اسرائیل انہیں گرفتار کرنے کی کوششوں میں تھا۔ ۲۰۰۴ میں شمالی غزہ کی پٹی میں مسجد النور کے اندر ایک پریس کانفرنس میں اپنی پہلی موجودگی سے ہی انہوں نے خود کو رازداری کے ایک مضبوط حصار میں رکھا۔ صہیونی انٹیلی جنس کی انہیں اس روش سے ہٹانے یا ان کا توازن بگاڑنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
۷ اکتوبر کے بعد ابوعبیدہ کا نمایاں کردار
ابوعبیدہ کی چند اہم ترین تقاریر ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس کے آپریشن کے بعد سامنے آئیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد انہوں نے بتایا کہ ۷ اکتوبر کے آپریشن کی منصوبہ بندی ۲۰۲۱ سے شروع کر دی گئی تھی، یعنی اسی سال مئی میں ہونے والی ۱۱ روزہ جنگ کے بعد۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے تقریباً ۴۵۰۰ ارکان نے اس آپریشن میں حصہ لیا، جن میں سے ۳۰۰۰ میدان میں موجود تھے۔
ابوعبیدہ نے طوفان الاقصیٰ کے مقاصد کے بارے میں اعلان کیا کہ اس آپریشن کا ایک مقصد اسرائیلی فوج کی غزہ بریگیڈ کو تباہ کرنا تھا جو اس فوج کی جنوبی کمان کا حصہ تھی۔
ابوعبیدہ کی مشہور ترین تقاریر میں سے ایک وہ تھی جس میں انہوں نے عرب رہنماؤں کو غزہ تک انسانی امداد پہنچانے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ عرب حکمرانوں کی غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے میں بے بسی نے ہمیں اور حماس کو حیران کر دیا ہے۔
صہیونی ریاست ابوعبیدہ کو کس نظر سے دیکھتی تھی؟
صہیونی ریاست ابوعبیدہ کو حماس کی ایک بااثر اور علامتی شخصیت سمجھتی تھی، جن کی تقاریر اور بیانات کا اسرائیلی رائے عامہ باقاعدگی سے پیچھا کرتی تھی، اگرچہ ان کی اصل شناخت ہمیشہ ابہام میں رہی۔
۲۰۱۴ کی غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی ویب سائٹ یدیعوت آحارونوت نے حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت کا نام اور ایک تصویر شائع کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ابوعبیدہ کی ہے، لیکن حماس نے اس رپورٹ کی تردید کر دی۔ اس میڈیا نے لکھا کہ ابوعبیدہ کی شناخت ظاہر کرنے کی کوشش کا مقصد اس طلسم کو توڑنا ہے جو ان کے گرد بنا ہوا ہے اور جس نے انہیں حماس کی بااثر شخصیات میں سے ایک بنا دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ابوعبیدہ پر پابندیاں
امریکہ نے اپریل ۲۰۲۴ میں ابوعبیدہ پر پابندیاں عائد کیں اور انہیں حماس میں انٹیلی جنس وار کا کمانڈر قرار دیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ ابوعبیدہ القسام بریگیڈز کے سائبر انفلوئنس یونٹ کی قیادت کے ذمہ دار تھے۔
اگرچہ گزشتہ اگست میں صہیونی فضائیہ کی دہشت گردانہ کارروائی اور ان کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں ابوعبیدہ کی آواز ان کی شہادت کے سرکاری اعلان کے ساتھ خاموش ہو گئی ہے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آپ کا تبصرہ