مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: جب امریکی خصوصی دستوں نے ونزوئلا کے صدر نیکلاس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، تو اپوزیشن نے خوشی منائی اور سمجھا کہ طاقت کا موقع ان کے ہاتھ آگیا ہے۔
نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے اسے آزادی کا لمحہ کہا۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں جیت کے دعویدار ادموندو گونزالس اوروتیا نے فوری طور پر حکومت کی منتقلی کا مطالبہ کیا۔ لیکن وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بالکل مختلف منصوبہ بنایا۔ انہوں نے اپوزیشن کو شامل نہیں کیا۔ مارالاگو میں پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خود ونزوئلا کے انتظام کا ذمہ دار ہوگا اور مادورو کی نائب صدر دلسی رودریگز سے بات کرے گا۔
انہوں نے ماچادو کے بارے میں کہا کہ وہ قیادت کے لیے ضروری احترام کی حامل نہیں ہیں۔ یہ صرف وینزویلا کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا ایک عام نمونہ ہے۔ وہ اپوزیشن کے حامی گروپوں کو حساس موقع پر نظر انداز کر دیتے ہیں اور براہ راست موجودہ طاقت کے ساتھ کام کرنا ترجیح دیتے ہیں۔
نوبل انعام اور ماچادو کی خوش فہمی

ماچادو کا سیاسی سفر صرف ایک سیاستدان کی ناکامی نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کی مثال ہے کہ علامتی حیثیت یا شہرت ہمیشہ حقیقی طاقت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
کچھ مہینوں میں ماچادو، جسے مغربی ادارے جمہوریت کی علامت سمجھتے تھے، ایک ایسے سیاستدان بن گئے جس کی ٹرمپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں تھی۔ یہ اس کی ذاتی کمزوری نہیں، بلکہ اس لیے تھا کہ اس کا اثر ونزوئلا کے حقیقی طاقت کے میدان میں محدود تھا۔
اکتوبر ۲۰۲۵ میں ماچادو کو نوبل امن انعام ملا، جس سے اس کی بین الاقوامی شہرت بڑھی۔ نوبل کمیٹی نے اسے پرامن طریقے سے اقتدار منتقل کرنے کی علامت بتایا اور مغربی میڈیا نے اسے "ونزوئلا کا مستقبل" کہا۔ لیکن یہ شہرت زیادہ تر صرف علامتی تھی اور ملک میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مدد نہیں ملی۔
ماچادو نے یہ فرق نظرانداز کیا اور نوبل کو ٹرمپ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، یہ سوچتے ہوئے کہ امریکی فوجی مداخلت کے بعد اپوزیشن خود بخود اقتدار میں آجائے گی۔
بعد میں ماچادو نے ٹرمپ کی تعریف کی اور امریکی دباؤ کی پالیسی کی کھلی حمایت کی تاکہ خود کو واشنگٹن کے لیے اہم ظاہر کر سکے۔ مادورو کی گرفتاری کے بعد اس نے "آزادی کا لمحہ" کا اعلان بھی کیا۔ لیکن ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں یہ واضح ہو گیا کہ ماچادو کا یہ انداز امریکی خارجہ پالیسی کے مطابق غلط تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ماچادو "قیادت کے لیے ضروری احترام کی حامل نہیں ہیں"۔ یہ ذاتی توہین نہیں بلکہ حقیقت کی نشاندہی تھی: ماچادو کے پاس حقیقی طاقت یا اثر و رسوخ نہیں تھا۔
ٹرمپ نے اپوزیشن کو نظرانداز کیا اور براہِ راست موجودہ حکومت کی طاقتور شخصیات سے بات کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پالیسی میں معیار صرف تجربہ، نوبل یا میڈیا کی حمایت نہیں، بلکہ وسائل اور طاقت کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔
یہ فیصلہ جذباتی نہیں، بلکہ حساب کتاب پر مبنی تھا۔ اپوزیشن، جو صرف امیدیں رکھتی ہے لیکن فوج، وسائل یا اقتدار پر کنٹرول نہیں رکھتی، مداخلت کے وقت شریک نہیں بلکہ رکاوٹ بنتی ہے۔
ماچادو کا یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں صرف شہرت یا علامتی حیثیت کسی کو اقتدار میں شامل نہیں کراتی۔ نوبل انعام، میڈیا کی تعریف اور واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی بھی طاقت کے بغیر کارگر نہیں۔ جو اپوزیشن اس فرق کو نہیں سمجھتی، وہ عموماً اسی وقت ہٹا دی جاتی ہے جب وہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
افغانستان تا وینزویلا، واشنگٹن کے معیار پر پورا اترنے والے ہی اہم

وینزویلا میں جو کچھ ہوا، یہ کوئی استثنائی مورد نہیں بلکہ امریکی کی خارجہ پالیسی کا ایک تسلسل ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکی حکام اپوزیشن گروپوں کو حساس موقعوں پر نظر انداز کرتے ہیں اور براہ راست موجودہ طاقت کے ساتھ معاملات کرتے ہیں یا خود کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔ افغانستان، شام اور وینزویلا یہ سب اس پالیسی کی مثالیں ہیں: امریکی حکام سیاسی نمائندگی پر کم اعتماد کرتے ہیں اور براہِل راست اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
فروری 2020 میں، امریکہ نے طالبان کے ساتھ دوحہ میں ایک معاہدہ کیا، جس سے امریکی فوجی افغانستان سے نکلنے کا راستہ طے ہوا۔ اہم بات یہ نہیں تھی کہ معاہدہ ہوا، بلکہ یہ کہ اس معاہدے میں افغانستان کی حکومت کو شامل نہیں کیا گیا، جو برسوں سے امریکی حمایت سے کام کر رہی تھی۔ یہ واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن نے اب سیاسی ہم آہنگی پر بھروسہ کم کردیا اور براہ راست اس طاقت کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دینا شروع کیا ہے جو میدان میں قابو رکھتی تھی۔
ماہرین کے مطابق، کابل حکومت کو مذاکرات سے نکال دینا یہ پیغام دیتا ہے کہ امریکہ پچھلی پالیسی کا پابند نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں افغان حکومت کی حیثیت کمزور ہوئی اور اختیار فوری طور پر طالبان کے ہاتھ چلا گیا۔
امریکی مفادات اور دہشت گرد الجولانی کے ساتھ اتحاد

شام میں بھی وہی نمونہ دہرایا گیا جو افغانستان اور ونزوئلا میں دیکھا گیا۔ ڈیموکریٹک فورسز آف سوریہ، جو کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل تھی، کئی سالوں تک امریکہ کی میدان میں اتحادی رہی۔ امریکہ نے انہیں ہتھیار اور تربیت دی اور بارہا اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ ان کے ذہن میں، امریکہ کے ساتھ شراکت ایک قسم کی سکیورٹی کی ضمانت تھی۔
لیکن اکتوبر 2019 میں، ٹرمپ نے ایک فون کال کے ذریعے ترک صدر رجب طیب اردگان سے بات کرکے شمالی شام سے امریکی فوجیوں کے فوری انخلا کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ پینٹاگون کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کے بغیر لیا گیا اور اس کے نتیجے میں ترکی کی فوجی کارروائی کے لیے راستہ کھل گیا۔ آپریشن کے بعد سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے اور وہ فورسز جو پہلے امریکہ کے اتحادی تھیں، اب اپنے بچاؤ کے لیے دمشق حکومت سے مدد لینے پر مجبور ہو گئیں۔ ٹرمپ نے صاف کہا کہ ان کی مدد امریکہ کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اس کے برعکس، وہ ہیئت تحریر الشام کے رہنما احمد الشرع سے تعاون کے لیے تیار ہیں کیونکہ اس کے پاس دمشق میں زمین پر کنٹرول اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت ہے۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں سابقہ وابستگی یا نظریاتی تعلقات اہم نہیں، بلکہ حقیقی طاقت اور امریکی مفاد کے لیے کارآمد ہونا فیصلہ کن ہے۔ اس سلسلے میں پرانے اتحادیوں کو نظرانداز بھی کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر، افغانستان، شام اور وینزویلا میں ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ کے لیے اپوزیشن صرف وقتی آلہ کار ہے۔ جب تک وہ امریکی دباؤ یا قانونی و سیاسی حمایت میں مدد دیتے ہیں، تو اہم سمجھے جاتے ہیں، لیکن جب حقیقی طاقت، وسائل یا کنٹرول ان کے پاس نہ ہو، تو فورا کنارے پر لگا دئے جاتے ہیں۔ وینزویلا اس پالیسی کی تازہ ترین مثال ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ سیاسی نمائندگی بغیر حقیقی طاقت کے واشنگٹن کے نزدیک میں کوئی اثر نہیں رکھتی۔
آپ کا تبصرہ