مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مشرقی یمن کے اہم اور تیل سے مالا مال صوبے حضرموت میں حالیہ دنوں کے دوران طاقت کا توازن نمایاں طور پر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ مقامی مسلح دستوں نے متحدہ عرب امارات کے عناصر کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد حساس اور اسٹریٹجک علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے، جن میں سیئون انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور صوبے کے اہم انتظامی و سکیورٹی مراکز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس پیش رفت سے قبل امارات کے حمایت یافتہ گروہوں نے حضرموت اور مشرقی یمن کے بعض علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی تھی، جس کے بعد سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اسی تناظر میں دونوں کے حمایت یافتہ دھڑوں کے درمیان محدود جھڑپوں میں اضافہ ہوا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حضرموت پر کنٹرول نہ صرف عسکری بلکہ اقتصادی لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ صوبہ یمن کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حضرموت میں اثر و رسوخ بڑھنے سے سعودی حمایت یافتہ عناصر کی سیاسی و مالی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے، جو یمن کے مستقبل کے کسی بھی ممکنہ سیاسی تصفیے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حضرموت کی حالیہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ یمن کی جنگ اب صرف داخلی تنازع نہیں رہی بلکہ مختلف علاقائی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کی شکل اختیار کرچکی ہے، جس نے ملک کو ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی جنگ کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی اور حضرموت پر دوبارہ قبضہ
سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح دستوں نے صوبہ حضرموت کے بڑے حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور سیئون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت اہم فوجی اور مالیاتی مراکز کو محفوظ بنا لیا ہے۔ یہ کارروائی جنوبی عبوری کونسل کی پسپائی کے بعد عمل میں آئی، جو اس سے قبل جنوبی یمن اور تیل سے مالا مال حضرموت کے بعض علاقوں پر قابض تھی۔ حضرموت پر دوبارہ قبضہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کے لیے استحکام اور صوبے میں سیاسی و سکیورٹی جواز میں اضافے کی علامت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اتحاد کے پاس مشرقی یمن میں کلیدی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول اور اثر و رسوخ بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
سعودی حمایت یافتہ فورسز کی یہ پیش قدمی مقامی حکومت نواز دستوں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت تیزی سے انجام پائی، جس کے نتیجے میں حساس مقامات کا کنٹرول یقینی بنایا گیا۔ شہری اور دیہی علاقوں میں بیک وقت سکیورٹی منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ صوبے میں استحکام کی واپسی کی راہ ہموار ہوسکے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یمن میں سعودی عرب کی عسکری موجودگی اب بھی عملی اور علامتی دونوں لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
جنوبی عبوری کونسل کی پسپائی اور اس کے اثرات
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ اور علیحدگی پسند ایجنڈے پر کاربند جنوبی عبوری کونسل نے حضرموت سے پسپائی اختیار کرکے جنوبی علاقوں اور اہم وسائل پر اپنا بڑا کنٹرول کھو دیا ہے۔ اس پسپائی نے نہ صرف جنوبی یمن میں اس گروہ کے اثر و رسوخ کو کم کیا بلکہ عرب اتحاد کے اندرونی اختلافات اور یمن کے معاملے پر امارات اور سعودی عرب کی پالیسیوں میں موجود تضاد کو بھی آشکار کردیا ہے۔ جنوبی یمن کے مستقبل سے متعلق اختلافات کے باعث جنوبی عبوری کونسل کو قابل ذکر عملی طاقت حاصل ہ چکی تھی، تاہم موجودہ پسپائی نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے لیے کنٹرول مضبوط بنانے کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔
اس پسپائی کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اسٹریٹجک علاقوں میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کریں اور بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور اہم مواصلاتی راستوں پر کنٹرول کو یقینی بنائیں۔
حضرموت کی اسٹریٹجک اہمیت
صوبہ حضرموت اپنے وسیع رقبے، تیل و گیس کے وافر وسائل اور اہم جغرافیائی محل وقوع کے باعث غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ سعودی عرب کی سرحد سے بحیرۂ عمان تک پھیلا ہوا ہے اور اس پر کنٹرول کا مطلب اہم اقتصادی وسائل اور حیاتیاتی تجارتی راستوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ اس صوبے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی نے ان کی سیاسی اور سکیورٹی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے اور امارات اور جنوبی عبوری کونسل کے لیے ایک واضح پیغام بھی دیا ہے۔
حضرموت پر کنٹرول مالی اور توانائی کے وسائل تک رسائی کو ممکن بناتا ہے اور یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سکیورٹی کی فراہمی اور اقتصادی استحکام کے عمل پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ یہ کنٹرول سعودی حمایت یافتہ فورسز کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ہمسایہ علاقوں اور ملک کے اہم مواصلاتی راستوں پر اپنا دباؤ اور اثر و رسوخ بڑھائیں اور اس طرح جنوبی یمن میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں تبدیل کریں۔
یمن میں ہر فریق کے زیر کنٹرول علاقے
اس وقت یمن عملی طور پر تین بڑے فریقوں کے زیرِ اثر ہے: سعودی حمایت یافتہ فورسز، انصاراللہ اور جنوبی عبوری کونسل۔ سعودی حمایت یافتہ فورسز صوبہ حضرموت کے بڑے حصے، تعز اور مأرب پر کنٹرول رکھتی ہیں، جبکہ الجوف، صعدہ اور حجہ کے بعض محدود علاقوں میں بھی ان کی موجودگی ہے۔ انصاراللہ دارالحکومت صنعاء، عمران، إب، البیضاء، ریمہ اور المحویت سمیت صعدہ، حجہ، الحدیدہ اور الجوف کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں۔ جنوبی عبوری کونسل عدن، شبوہ، أبین، سقطری اور المہره کے ساتھ ساتھ الضالع، لحج اور حضرموت کے محدود حصوں کو کنٹرول کرتی ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ حضرموت میں حالیہ پیش رفت کے باوجود یمن اب بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں کئی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور جنگ جاری ہے، جبکہ کوئی بھی فریق پورے ملک پر مکمل اختیار حاصل نہیں کرسکا۔ یمن کے کسی ایک صوبے میں ہونے والی تبدیلی لازمی طور پر دوسرے علاقوں کے سیاسی اور سکیورٹی حالات پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
نتیجہ
حضرموت میں حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز نے میدان جنگ میں پیش قدمی اور اہم اسٹریٹجک مقامات کی واپسی کے ذریعے مشرقی اور جنوبی یمن میں طاقت کے نقشے کو بدل دیا ہے۔ اس پیش رفت کے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور اقتصادی اثرات بھی مرتب ہوں گے جس سے سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ان کے اتحادیوں کی حیثیت اور جواز کو تقویت ملی ہے۔ تاہم اس کے باوجود یمن بدستور ایک کثیرالجہتی جنگ میں الجھا ہوا ہے اور مکمل استحکام کا حصول جامع سیاسی حل اور علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرموت کی واپسی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسٹریٹجک علاقوں اور اقتصادی وسائل پر کنٹرول جنوبی یمن میں طاقت کے توازن کو سعودی حمایت یافتہ فورسز کے حق میں موڑ سکتا ہے اور اندرونی و بیرونی حریفوں پر دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ