مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جنگ بندی مزاحمتی جنگجوؤں کی غیر معمولی کارکردگی کے بغیر ممکن نہیں تھی اور میدان جنگ ہی فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب پالیسی وہی ہوتی ہے جو میدان میں حاصل ہونے والے نتائج کو طاقت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دشمن کو لبنان کے حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے لبنان اور اسرائیل سے متعلق بیانات کو بے معنی اور لبنان کی توہین قرار دیا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام جارحانہ کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہے، تاہم مجاہدین کی انگلیاں اب بھی ٹریگر پر رہیں گی کیونکہ دشمن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران صرف سفارتکاری پر انحصار کرنے کا تجربہ ناکام رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی یکطرفہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ دونوں فریقوں پر لاگو ہونی چاہیے، اور لبنان اپنی فوج، عوام، مزاحمت اور سیاسی قوت کے اتحاد سے مضبوط رہے گا۔
انہوں نے مزاحمتی جنگجوؤں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو، سرحد پر ایک لاکھ فوجیوں کی موجودگی کے باوجود، ناکام بنایا۔
شیخ نعیم قاسم نے ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے لبنان میں جنگ بندی کی حمایت کی۔
انہوں نے آئندہ مرحلے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا جس میں پورے لبنان میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی اور بین الاقوامی تعاون سے تعمیر نو شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نئی صورتحال میں لبنانی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ قومی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اس کے اتحادی مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتے، اور لبنان اپنے بہادر عوام اور قربانیوں کی بدولت سربلند رہے گا۔
آپ کا تبصرہ