مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ دھمکیوں کے باوجود ایران سے متعلق سفارتی اور سیاسی حل کے مواقع اب بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے سفارتی اور سیاسی راستے اب بھی کھلے ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مکالمہ ہی واحد مؤثر ذریعہ ہے۔
ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ قطر تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایسے تمام مکالماتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا ہو۔
فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ دوحہ دیگر ثالثوں کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر ثالثوں کے ساتھ مل کر غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد کو سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ مصر کے ساتھ غزہ کی رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی شرائط میں شامل تھا، جو 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوا تھا، تاہم یہ گزرگاہ تاحال بند ہے۔
انسانی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پابندیاں اب بھی امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، جو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
آپ کا تبصرہ