مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں صفر فیصد یورینیم افزودگی قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ قومی وقار اور عزت کا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے اس کے لیے بڑے اخراجات کیے ہیں اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے کئی شہید جوہری سائنسدانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کو غداری سمجھتا ہے جس کے تحت افزودگی کی شرح صفر تک کم کی جائے، اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بمباران شدہ جوہری تنصیبات کا کوئی تعلق نہیں، ہم صرف ان تنصیبات پر ایجنسی کے ضوابط کے تحت تعاون کرتے ہیں جو بمب حملوں سے متاثر نہیں ہوئیں۔
بدھ کے روز آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے کہا کہ ایجنسی کے معائنہ کار ایران واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے ان تنصیبات کا معائنہ کیا ہے جو جون کے حملوں سے متاثر نہیں ہوئیں، لیکن مکمل معائنوں کی بحالی کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور معمول کی توثیقی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گروسی نے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ہم کسی سے قرارداد تیار کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے۔
ان کے مطابق ایران اور آئی اے ای اے کو اس کام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو ہمیں عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) اور حفاظتی معاہدے کی بنیاد پر کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ