تہران یونیورسٹی میں مزید افغان طالبات کو داخلے دے گا

ایران افغانستان سے مزید طالبات کو تہران یونیورسٹی میں داخلہ دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے افغان طلباء کو اسکالرشپ اور وظائف دینے کے لیے تہران یونیورسٹی کے بجٹ میں پانچ گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے تہران یونیورسٹی کی ایک آفیشل معصومہ ملک نے کہا کہ اس طرح ایران 2023 میں مزید افغان طلباء خصوصاً خواتین کی مدد کر سکے گا۔اس وقت تہران یونیورسٹی میں 470 افغان طلباء جن میں 140 خواتین ہیں، زیر تعلیم ہیں۔ فنانشل ٹریبیون کے مطابق مذکورہ آفیشل نے مزید کہا کہ ان میں سے نصف سے زیادہ طلباء اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

در ایں اثنا افغانستان میں خواتین کے لیے سرگرم کچھ فعال افراد نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے محروم افغان لڑکیوں کو مدد کی ضرورت ہے۔خواتین کے حقوق کی کارکن ترانہ ادیب نے کہا کہ موجودہ حالات میں جہاں افغان لڑکیوں کے لیے اسکول، یونیورسٹیاں اور دیگر تعلیمی سہولیات بند ہیں اور لڑکیاں مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے تعلیم سے محروم طلبہ کو داخلے دینے کا اقدام ایک اچھا اور قابل تعریف اقدام ہے۔

ایک اور سرگرم کارکن نگینہ یاری نے کہا کہ بدقسمتی سے افغان لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے پڑوسی ممالک کے تعلیمی پروگرام مختصر مدت کے لیے ہیں اور یہ پروگرامز طویل مدتی تعلیم میں خواتین اور لڑکیوں کی مدد نہیں کر سکتے۔ مزید برآں پڑوسی ممالک کو افغان لڑکیوں اور خواتین کی نازک صورتحال کو سیاسی طور پر اجاگر کرنا چاہیے۔

افغان ایجنسی آریانا نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ دبئی کے ارب پتی خلف بن احمد الحبتور نے دبئی میں 100 افغان طالبات کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

گزشتہ سال کابل میں ایک سائنسی نشست کے بعد ایرانی سفیر بہادر امینیان نے افغان ہائر ایجوکیشن کے قائم مقام وزیر مولوی عبدالباقی حقانی کے ساتھ ملاقات میں افغان طلباء کو وظائف فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ باختر نیوز ایجنسی کے مطابق مولوی حقانی نے ایرانی سفیر سے کہا تھا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں افغانستان کی مدد کریں۔

ایرانی سفیر نے افغان ہائر ایجوکیشن کی وزارت کے ایک تکنیکی وفد کو دعوت دی کہ وہ ایران کا دورہ کرے اور ایران کے تعلیمی نظام کا بغور جائزہ لے اور اس کے تجربات سے استفادہ کرے۔ انہوں نے افغان وزارت ہائر ایجوکیشن کو افغان طلباء اور اساتذہ کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی۔

جبکہ ایران کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے ملک میں اس وقت دس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے لیے رہائشی اجازت ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

  آریانا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت داخلہ میں غیر ملکی شہریوں اور تارکین وطن کے امور کے ڈائریکٹر جنرل صادق رضادوست نے کہا کہ وہ تمام شہری جو گزشتہ سال افغانستان میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد ایران آئے تھے یا جنہیں گزشتہ برسوں میں کاغذات دیے گئے تھے انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کے کاغذات میں توسیع کردی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں کام کرنے والوں کے لیے ایک خصوصی ریزیڈنسی کارڈ بھی جاری کیا جاتا ہے۔

افغانستان کی وزارت برائے مہاجرین اور وطن واپسی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان میں سے صرف دس لاکھ کے پاس رہائشی دستاویزات ہیں۔ افغان وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی نے کہا کہ ایران میں ہمارے تقریباً 30 لاکھ پناہ گزین ہیں جن میں سے 20 لاکھ کے پاس اب بھی رہائشی دستاویزات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت مہاجرین نے ایران سے انہیں رہائشی اجازت نامہ دلوانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق تارکین وطن کے تمام حقوق حاصل کر سکیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک میں مقیم افغان مہاجرین کو بہت سے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ایران میں مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے ایران، پاکستان، افغانستان اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے نمائندوں کے درمیان کثیرالجہتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔
 

News Code 1914076

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha