مشترکہ ایٹمی معاہدے سے ایران کو کوئی اقتصادی فائدہ نہیں پہنچا/ قرض وصولی کا امریکہ سے کوئی تعلق نہی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کی طرف سے بعض ممالک سے قرضہ وصول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضہ وصول کرنے کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران کو مشترکہ ایٹمی معاہدے سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بعض ممالک سے ایران کا قرضہ وصول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضہ وصول کرنے کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران کو مشترکہ ایٹمی معاہدے سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یوم مسلح افواج کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاع مقدس کے دوران ایرانی فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔ ایرانی فوج نے ایرانی سرزمین کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مسجد الاقصی پر صہیونیوں کے مجرمانہ اور بہیمانہ حملوں کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جناب امیر عبداللہیان نے اسلامی تعاون تنظيم کے سکریٹری جنرل کے نام خط میں بعض عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔  انھوں نے کہا کہ بعض عرب اور اسلامی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی وجہ سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اس نے مسجد الاقصی میں فلسطینیوں پر نماز اور روزے کی حالت میں حملہ کرکے اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لئے اسلامی ممالک کو ٹھوس اور متحدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ویانا مذاکرات کی فضا کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران اور گروپ 1+4 نے اپنے اقدامات انجام دیئے ہیں اور ہم امریکہ کے جواب کے منتظر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ ایٹمی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ضمانت چاہیے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ کئی برسوں سے ایران کے لئے غیر مفید ہے۔ ایران کے اقتصادی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جب تک ایرانی قوم کے اقتصادی مفادات کو مد نظر نہیں رکھا جائے گا تب تک مشترکہ ایٹمی معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

News Code 1910549

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha