پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحد پر باڑھ لگانے کے معاملے پر اختلافات شدید ہوگئے

کابل میں افغان طالبان کی عبوری حکومت نے سرحدی تنازع پر پاکستان سے تصادم کاخطرہ مول لیا ہے حالانکہ پاکستان افغان طالبان کا حامی رہاہے لیکن سرحد پر باڑھ لگانے کے معاملے پرتنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کابل میں افغان طالبان کی حکومت نے سرحدی تنازع پر پاکستان سے تصادم کاخطرہ مول لیا ہے حالانکہ پاکستان افغان طالبان کا حامی رہاہے لیکن سرحد پر باڑھ لگانے کے معاملے پرتنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ 

پاکستانی فوج نے افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لئے غیر مستقل سرحد ڈیورنڈ لائن پر باڑھ لگانی شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2014ء میں شروع باڑھ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہوگیاہے۔ 

گزشتہ 19دسمبر کو طالبان نے صوبہ ننگرہار میں لگائی جانے والی سرحدی باڑاکھیڑ دی اور پاکستان کو مزید رکاوٹ کھڑی کرنے سے روک دیا جس پر طرفین میں تصادم بھی ہوا۔ 

پاکستان کو خبردار کیا گیا کہ وہ مزید سرحدی باڑھ کھڑی نہ کرے۔ افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو باڑ کھڑی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے تو باڑ اور خود سرحد کو ہی مسترد کردیا۔

 ڈیورنڈ لائن 1893 میں افغانستان اور برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے تحت سمجھوتے کے تحت تعمیر کی گئ تھی لیکن 1947ء میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے یہ سرحدی تنازع حل طلب ہی رہا ہے حتیٰ کہ پہلے طالبان حکمرا ن ملا عمر بھی ڈیورنڈ لائن پر معترض رہے۔ 

ڈیورنڈ لائن پر باڑھ لگانے کی طالبان کی جانب سے مخالفت کی ایک وجہ یہ ہے کہ طالبان کی اکثریت نسلی پختونوں پر مشتمل ہے اور وہ سرحد کی دونوں جانب اپنی آزادانہ نقل و حرکت میں ر کاوٹ کو برداشت نہیں کرتے۔ 

تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ سرحدی تنازع جلد حل کرلیا جائے گا۔ 

پاکستان اور افغانستان دونوں ہی اس تنازع کو حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور جلد یہ معاملہ حل کرلیا جائے گا جبکہ باڑھ لگانے کا سلسلہ جاری رہےگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے طالبان کو افغانستان میں اقتدار مین لانے کے سلسلے میں کلیدی گردار ادا کیا  لیکن اب پاکستان کو افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

News Code 1909427

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 1 =