زاریا کے حادثے کے شہداء کی تعداد 1000 سے زائد/ نائجیریا کی حکومت اسلامی انقلاب سے خوفزدہ ہے

نائجیریا کی اسلامی تنظیم کے سربراہ شیخ زکزاکی نے آزادی کے بعد پریس ٹی وی کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے نائجیریا میں اسلامی تحریک کو کمیونیسٹی نظریات کا جواب دینے کے لئے تاسیس کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نائجیریا کی اسلامی تنظیم کے سربراہ شیخ زکزاکی نے آزادی کے بعد پریس ٹی وی کی مجری محترمہ مرضیہ ہاشمی کے ساتھ  اپنے پہلے خصوصی  انٹرویو میں نائجیریا میں اسلامی تحریک کی تشکیل کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ  میں نے نائجیریا میں اسلامی تحریک کو کمیونیسٹی نظریات کا جواب دینے کے لئے تاسیس کیا۔ شیخ زکزاکی نے کہا کہ مجھے عرب زبان پر عبور حاصل تھا۔ ہم نے نائجیریا میں کمیونیسٹی نظریات کا بھر پور مقابلہ کیا اور ہم نے نائجیریا کی اسلامی تحریک کو کمیونسٹی نظریات کا مقابلہ کرنے کے لئے تشکیل دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران میں حضرت امام خمینی (رہ) کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ہماری دینی اور مذہبی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔

شیخ زکزاکی نے سن 1979 میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی بدولت ہم نے بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہم نے اپنی تنظیم کا نام تحریک اسلامی رکھا ، ہم مسلمان طلباء نے یونیورسٹی قائم کی جو آج بھی موجود ہے ہماری سرگرمیاں دینی اور اسلامی اہداف کے لئے تھیں۔ انھوں نے کہا کہ نائجیریا کی حکومت ایرانی انقلاب کی مانند  اسلامی نظام اور اسلامی انقلاب کے قیام سے خوفزدہ ہے ۔

پریس ٹی وی کی مجری نے شیخ زکزاکی سے  زاریا کے حادثے اور 6 سال قید کے بارے میں سوال کیا ؟ شیخ زکزاکی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سن 2015 میں زاریا کا حادثہ رونما ہوا ، جس میں سیکڑوں افراد شہید ہوگئے اس حادثے میں میرے 3 بیٹے بھی شہید ہوگئے، زاریا حادثے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔ اس حادثے میں، میں بھی زخمی ہوا اور میری ہمسر بھی زخمی ہوئی۔ میں نے حکام سے کہا کہ میرا سلام صدر بوہاری کو پہنچا دینا ، میں قیامت میں اس سے ملاقات کروں گا۔ سکیورٹی فورسز نے زاریا حملے ميں مسجد ، حسینیہ اور میرا گر تباہ کردیا۔زاریا حادثے میں 1000 سے زائد افراد شہید ہوگئے۔

پریس ٹی وی کی مجری نے شیخ زکزاکی اور ان کی ہمسر کی صحت اور صورتحال کے بارے میں سوال کیا ؟

شیخ زکزاکی نے کہا کہ بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میرے بدن میں جو گولیاں پیوست ہیں ان کو خارج کیا جاسکتا ہے میرے بدن میں گولیاں باقی ہیں اور میں گولیوں کے ساتھ زندگی بسر کررہا ہوں۔ نائجیریا کی حکومت عدالتی حکم کے باوجود ہمیں علاج و معالجہ کے لئے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہی تاکہ ہم اپنا علاج کرواسکیں۔

انھوں نے کہا کہ زاریا کے قتل عام نے نائجیریا کی حکومت کے بارے میں نائجیریا کی عوام اور دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا ہے۔ عاشور کا دن اور اربعین حسینی دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ زاریا کے واقعہ نے عوام کو آگاہ کیا اور کربلا کے واقعہ نے عوام کو آگاہی عطا کی۔ انھوں نے کہا کہ اس سال بھی ابو جا میں  اربعین کے موقع پر حسینی عزاداروں پر فائرنگ کی گئی جس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ مکتب امام حسین علیہ السلام شمشیر پر خون کی فتح کانام ہے۔ ہماری اسلامی تحریک نے بھی حکومت کی گولیوں کا مقابلہ خون سے کیا، وہ ہمیں روکنا چاہتے تھے لیکن ہم رکے نہیں۔ مکتب حسینی کا سفر جاری ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری کو روک نہیں سکتی ۔

شیخ زکزاکی نے مجری کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کو سفارش کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بنی اسرائیل 200 سال تک فرعون کے زیر تسلط رہے، فلسطینی کئی برسوں سے انصاف طلب کررہے ہیں۔ ظلم باقی نہیں رہےگا، ایک دن انصاف کا بول بالا ہوگا، مسلمانوں کو اس سلسلے میں اللہ تعالی کے وعدے پر یقین رکھنا چاہیے۔

News Code 1908342

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 10 =