اسرائیل اور امارات کے درمیان سازشی معاہدہ کرانے پرٹرمپ نوبل انعام کے لئے نامزد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سازشی معاہدہ کرانے پر ناروے کے پارلیمنٹرین کی جانب سے نوبل انعام 2021 ء کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سازشی معاہدہ کرانے پر ناروے کے پارلیمنٹرین کی جانب سے نوبل انعام 2021  ء کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ناروے کے رکن اسمبلی کرسچیئن ٹیبرنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا میں نام نہاد امن کی کاوشوں بالخصوص اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سازشی معاہدے کے لیے راضی کرنے اور مشرق وسطیٰ میں نام نہاد امن کی راہ ہموار کرنے پر نوبل امن انعام 2021ء کے لیے نامزد کردیا ہے۔اس سے نوبل انعام کی حقیقت بھی دنیا کے سامنے آگئی۔ کہ نوبل انعام کس قسم کے افراد کو دیا جاتا ہے۔

ناروے کے پارلیمنٹرین نے صدر ٹرمپ کی نوبل انعام کےلیے نامزدگی کے لیے خط میں لکھا کہ میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا میں نام نہاد امن کے لیے نوبل امن انعام کے لیے دیگر تمام نامزد کردہ افراد کی نسبت سب سے زیادہ کوشش کی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سازشی معاہدہ کرایا ۔

 واضح رہے کہ صدر ٹرمپ بھی گزشتہ برسوں میں دو سے زائد بار خود کو نوبل انعام ملنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں اور جاپانی وزیراعظم نے اُن کی خواہش پر نوبل انعام 2018 کے لیے صدر ٹرمپ کو سنگاپور سمٹ پر نامزد بھی کیا تھا لیکن وہ یہ انعام حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

واضح رہے کہ رواں برس نوبل انعام کے لیے 300 سے زائد نامزدگیاں ہوچکی ہیں جن میں سے کامیاب امیدوار کا اعلان اگلے ماہ متوقع  ہے۔

News Code 1902827

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 4 =