عراقی پارلیمنٹ کا وزیر اعظم الکاظمی کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ/ الکاظمی کو درپیش مشکلات

عراق کی پارلیمنٹ نے نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دیدیا ہے جبکہ الکاظمی کو دشوار ذمہ د اریوں کا سامنا ہے جن میں امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلا کے سلسلے میں عراقی پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون پر عمل در آمد بھی شامل ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی  کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق عراق کی پارلیمنٹ نے نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دیدیا ہے جبکہ الکاظمی کو دشوار ذمہ د اریوں کا سامنا ہے جن میں امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلا کے سلسلے میں عراقی پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون پر عمل در آمد بھی شامل ہے۔

الکاظمی کی کابنیہ میں شامل 15 وزراء کو عراقی پارلیمنٹ نے اعتماد کا ووٹ دیدیا ہے ، جن میں نبیل کاظم  اعلی تعلیم کے وزیر ، جمعہ عناد وزیر دفاع، عثمان الغانمی وزیر داخلہ علی عبدالامیر علاوی وزیر خزانہ، حسن محمد وزیر صحت ، حماجد مہدی علی وزیر بجلی اور علی حمید مخلف وزیر تعلیم  شامل ہیں۔

عراق کے نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے کہا کہ  وہ اسلحہ کو حکومت کے ہاتھ تک محمدود کرنے اور  قبل از وقت انتخابات کرانے  کی کوشش کریں گے اور عراقی سرزمین  کو دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

عراق کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ملک میں آزادی بیان اور آزدی اظہار اور پر امن مظاہروں کی حمایت کرتے ہیں۔  اورسماجی ، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں  عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کی تلاش و کوشش کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق عراقی پارلیمنٹ نے الکاظمی کو اعتماد کا ووٹ دیکر عراق کو خطرناک سیاسی بحران سے نکال لیا ہے۔ سیاسی بحران عراق کے لئے سخت اور تباہ کن ثابت ہوسکتا تھا۔ لیکن عراقی پارلیمنٹ نے سیاسی بلوغ کا ثوبت دیتے کو عراق کو اس بحران سے بچا لیا ہے۔ عراق کو دیگر چیلنجوں اور بحرانوں کا سامنا بھی جن میں اقتصادی بحران بھی شامل ہے۔ عراق کے نئے وزیر اعظم کو سخت اور دشوار امور کا سامنا بھی ہے جن میں عراق سے امریکی فوج کا اخراج بھی شامل ہے کیونکہ عراق کی  پارلیمنٹ نے عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے سلسلے میں قانون پاس کررکھا ہے اور امریکی فوج کے عراق سے خارج کرنے کا مطالبہ عراقی عوام کا مطالبہ بھی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے اراکین عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے خواہاں ہیں ۔ عراقی وزیر اعظم کو قبل از وقت انتخابات کرانے کے چيلنج کا بھی سامنا ہے اور یہ کام اسے آئندہ دو سال کے اندر انجام دینا ہے البتہ الکاظمی نے بھی قبل از وقت انتخابات منعقد کرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

News Code 1899972

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 8 =