عرب ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد میں اضافہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کہ کورونا وائرس پھیلنے سے عرب خطے میں غربت میں اضافہ ہوگیا ہےجب کہ وہاں لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے گلف نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کہ کورونا وائرس پھیلنے سے عرب خطے میں غربت میں اضافہ ہوگیا ہےجب کہ وہاں لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گلف نیوزنے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ میں عرب ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافے پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران معاشی عدم استحکام، غذائی کمی جیسے مسائل اور وبا کے مزید پھیلنے جیسے خوف کے باعث عرب ممالک میں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کا شکار بننے والی خواتین کو امداد حاصل کرنے میں بھی مشکلات درپیش ہیں جب کہ وہ وبا کے دنوں میں اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں۔

گلف نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے عرب خطے میں گھریلو تشدد پر تشویش کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی اردن کی ایک خاتون کی جانب سے گھریلو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو عرب ممالک میں وائرل ہوئی تھی۔

ویڈیو میں 36 سالہ ایمان الخطیب نے حکومت اور خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں سے مدد مانگتے ہوئے اپیل کی تھی کہ انہیں اور ان کے جواں سالہ بیٹے کو اہل خانہ کے تشدد سے نجات دلائی جائے۔ عرب ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں اضافے کی رپورٹس آنے سے قبل یورپ سے بھی ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وہاں بھی لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اٹلی سے لے کر اسپین اور برطانیہ سے لے فرانس و جرمنی جیسے ممالک میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر گھریلو تشدد میں 40 سے 70 فیصد اضافے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

News Code 1899250

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 4 =