سکیورٹی معاہدہ کی معطلی اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا بہترین ہتھیار ہے

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کی معطلی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کی معطلی در حقیقت غاصب صہیونی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کا بہترین ہتھیار ہے اور فلسطینیوں کو اس ہتھیار سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کی معطلی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کی معطلی  در حقیقت غاصب صہیونی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کا بہترین ہتھیار ہے اور فلسطینیوں کو اس ہتھیار سے  بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔

سید حسن نصر اللہ نے جہاد سازندگی ادارے کی اکتیسویں سالگرہ کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے لبنانی عوام کی بہترین خدمات انجام دی ہیں اور ہم اس کی سالگرہ کے موقع پر اس ادارے کے بانیوں اور خدمت گزاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ  لبنان پر حزب اللہ کی حکمرانی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حزب اللہ لبنان کی مختلف سیاسی جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے جس کی اصلی ذمہ داری لبنانی فوج ، عوام اور لبنانی حکومت کے ہمراہ لبنانی سرزمین کی اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں حفاظت کرنا اور اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ کو کسی سے کوئی مشکل درپیش ہو تو حزب اللہ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اور براہ راست اعلان کیا جاتا ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ہم کسی کے پیچھے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ہم مسائل اور مشکلات کو باہمی تعاون سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کو معطل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ  جس چير سے اسرائیل کو سخت پریشانی لاحق ہے وہ سکیورٹی تعاون کا معاہدہ ہے اور فلسطینیوں کے پاس سکیورٹی معاہدہ بہترین ہتھیار ہے اور انھیں اس ہتھیار سے اسرائیل کے خلاف بھر پور استفادہ کرنا چاہیے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے گھر تباہ کرنے کی مزید اجازت نہیں دینی چاہیے ۔

News Code 1892464

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =