انڈونیشیا میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا پانچواں اجلاس

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں فلسطین کے موضوع پر اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم او آئی سی کا پانچواں غیرمعمولی اجلاس شروع گیا ہے اس اجلاس میں ایرانی وزير خارجہ خطاب کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں فلسطین کے موضوع  پر اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم او آئی سی کا پانچواں غیرمعمولی اجلاس شروع گیا ہے اس اجلاس میں ایرانی وزير خارجہ خطاب کریں گے۔ سکریٹری جنرل او آئی سی ایاد بن امین مدنی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن متاثر ہورہاہے۔ مسلمان ملکوں کو مسئلہ فلسطین پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ فلسطینی صدر نے مسلم ملکوں سے القدس فنڈ قائم کرنے کی اپیل کی۔
اوآئی سی کے پانچ ویں غیر معمولی اجلاس کے لیے 49 ملکوں کے سربراہ اور نمائندے جکارتا میں جمع ہیں ۔
اجلاس سے خطاب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تعمیر روکنا ہوگی،اس سلسلے میں اسرائیل نے بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری نہیں کی،مسلمان ملک فلسطین کا تشخص برقراررکھنے کیلئے جدوجہد تیز کریں۔
انڈونیشیا کے صدر کاکہنا تھاکہ اوآئی سی مسئلےکےحل کیلئےکردارادانہیں کرسکتی تو اسکےوجودکا کوئی فائدہ نہیں۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد بن امین نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن متاثر ہورہاہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ صرف اجلاس منعقد کرنے سے مسئلہ فلسطین حل نہین ہوگا بلکہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے اسلامی ممالک کو ٹھوس اور عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

News Code 1862355

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha