اللہ کے مہمانوں نے منی میں کفن پہن کر نااہل میزبان کو عالمی سطح پر رسوا کردیا

مکہ مکرمہ میں کرین کے مسجد الحرام میں گرنے کے حادثے کے بعد منی کا المیہ سعودی عرب کےحکام کی نااہلی اور ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور اللہ تعالی کے مہمانوں نے منی میں کفن پہن کرثابت کردیا کہ سعودی حکام دنیا اور آخرت میں نااہل ، ناکام اور نامراد ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق رواں برس حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں کرین کے مسجد الحرام میں گرنے کے بعد منی کا المیہ سعودی عرب کےحکام کی نااہلی اور ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور اللہ تعالی کے مہمانوں نے منی میں کفن پہن کرثابت کردیا کہ سعودی حکام دنیا اور آخرت میں  نااہل ، ناکام اور نامراد ہیں۔ آج سعودی عرب کی غیر ذمہ دار اور نااہل حکومت کی غفلت اور سستی اور انسانی کرامت اور شرافت پر عدم توجہ کی بنا پر عالم اسلام غم و اندوہ میں ڈوب گیا ہے۔ منی کے المیہ میں 2000 افراد شہید اور 2500 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ سعودی حکام اور سعودی حکومت کی حجاج بیت اللہ الحرام کے انتظامی امور پر کوئی توجہ نہیں ، سعودی حکام صنعا سے لیکر منی تک انسانی لاشوں کو گرارہے ہیں۔ آل سعود کی نظر میں انسانی جانوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ان کی پوری توجہ اس وقت جنگ و جدال اور وہابی دہشت گردوں کی پرورش اور تربیت پر مرکوز ہے۔ سعودی حکام یمن میں نہتے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کررہے ہیں، سعودی عرب کے عیاش بادشاہ نے یمن میں تباہی پھیلا رکھی ہے یمن کے مدارس، مساجد ، اسپتال اور شہری آبادی پر سعودی عرب کی مجرمانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔  انھیں حج کے امور کے انتظامات سے کوئی دلچسپی اور سروکار نہیں ، وہ یمن میں 20 ہزار افراد کو قتل اور زخمی کرچکے ہیں، ان کی دلچسپی جنگ و جدال میں ہے وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں پر عمل کررہے ہیں وہ دہشت گردی اور وہابی دہشت گردوں کے ذریعہ دوسرے اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی نے اپنے مہمانوں کے ذریعہ آل سعود اور سعودی عرب کے بادشاہ کو عالمی سطح پر ذلیل و رسوا کردیا اور منی کے المیہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ آل سعود میں حرمین شریفین کے انتظامی امور کی صلاحیت موجود نہیں ،یہ غیر ذمہ دار اور عیاش لوگ ہیں ان کا حرم اللہ سے کوئی تعلق نہیں یہ ابو جہل ، ابو سفیان اور ابو لہب کی اولاد ہیں آل سعود معاویہ اور یزید کے وارث ہیں اور اس میں کسی بھی سچے مسلمان کو شک نہیں کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

س۔ذ۔ح

News Code 1858416

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 2 =