مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی فوجداری عدالت نے امریکہ کی جانب سے اپنے اعلی عہدیداروں پر عائد پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں ایک ایسے غیر جانب دار عدالتی ادارے کی آزادی پر حملہ ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں رکن ممالک کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے تحت کام کر رہا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے بتایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں اس وقت 18 میں سے 9 جج، دونوں نائب پراسیکیوٹرز، سابق پراسیکیوٹر اور عدالت کے ایک ملازم کو پابندیوں کا سامنا ہے۔
عدالت نے خبردار کیا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوگی اور جب عدالتی حکام کو قانون پر عمل درآمد کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بین الاقوامی قانونی نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی وزارت خزانہ نے عالمی فوجداری عدالت کے سربراہ سمیت بعض اعلی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی پابندیوں کا نشانہ عالمی فوجداری عدالت کی سربراہ جاپانی جج توموکو آکانے اور سینیگالی جج عبداللہ یایا سو بھی بنے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اپنے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف اقدامات کرے گا اور ضرورت پڑنے پر اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔
آپ کا تبصرہ