مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جمعہ کی شام سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عراقچی نے ایران کے خلاف برطانیہ کے حالیہ اقدامات، بالخصوص ایرانی مسلح افواج کے حوالے سے برطانوی فیصلوں اور ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں لندن کے کردار کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل میں شریک ہوا اور 28 خرداد کو جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت تک پہنچا، تاہم امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے انتظام کے لیے عمان کے تعاون سے عملی طریقۂ کار وضع کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے فریق کی مداخلت موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ جارح قوتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون، خواہ وہ سابقہ دفاعی معاہدوں کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک کی سرزمین یا سہولیات کو دوسرے ملک پر غیر قانونی حملے کے لیے استعمال ہونے دینا جارحیت کے زمرے میں آتا ہے اور متاثرہ ملک کو دفاع مشروع کا حق حاصل ہوتا ہے۔
لندن: ہم ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ان کی حکومت ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں ہے اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط جاری رکھنے، دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آپ کا تبصرہ