10 جولائی، 2026، 11:48 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع، ایران کی قومی یکجہتی اور دفاعی قوت کا نیا پیغام

شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع، ایران کی قومی یکجہتی اور دفاعی قوت کا نیا پیغام

شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایران عوامی یکجہتی اور قومی استحکام کے باعث مضبوط ہے، جس سے اس کے بارے میں کیے جانے والے کئی عالمی اندازے بدل گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: شہید امت آیت اللہ العظمی امام سید علی حسینی خامنہ ای کی تاریخی تشییع کو بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں ایک ایسے اہم واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے ایران کی سماجی طاقت، علامتی حیثیت، سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کو نمایاں کیا۔

بعض واقعات صرف سیاسی یا سماجی حادثے نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے سیاسی اور فکری نظام کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شہید رہبر انقلاب کی تشییع بھی اسی نوعیت کا ایک تاریخی واقعہ قرار دی جا رہی ہے۔ یہ تشییع عوامی طاقت، قومی یکجہتی اور حساس ترین حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی انتظامی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بن کر سامنے آئی۔ اس واقعے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب اسے گزشتہ چند ماہ کے علاقائی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا مقصد اسلامی جمہوریہ کے طرز عمل کو تبدیل کرنا، اس کی دفاعی طاقت کو کمزور کرنا اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنا تھا، تاہم نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔

قائد شہید کی تشییع جنگ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا پہلا بڑا امتحان تھی، جس نے نہ صرف داخلی صورت حال کو نمایاں کیا بلکہ ایران کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں کے اندازوں کو بھی متاثر کیا۔ اس تشییع کی مغربی، عرب اور روسی ذرائع ابلاغ میں وسیع کوریج نے ظاہر کیا کہ ایران کے مستقبل سے متعلق کئی عمومی پیش گوئیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں اور تاریخی تشییع نے عالمی سطح پر نئی سیاسی اور تزویراتی بحث کو جنم دیا۔

شہید امام خامنہ ای کی تشییع کا پہلا تزویراتی پیغام

شہید رہبر انقلاب کی تشییع کا پہلا اہم تزویراتی پیغام اس تصور کو مسترد کرنا تھا کہ ایران سماجی تنہائی اور داخلی انتشار کا شکار ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ایران کے خلاف جاری ادراکی جنگ کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی تھی کہ ریاست اور عوام کے درمیان خلیج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئی بھی سیاسی یا سیکیورٹی بحران داخلی یکجہتی کے انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔اسی تجزیے کی بنیاد پر متعدد مغربی تحقیقی مراکز نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ، ہائبرڈ جنگ اور حتیٰ کہ فوجی کارروائی جیسی حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن تہران میں شہید رہبر کی تشییع کے دوران سامنے آنے والے منظر نے ان اندازوں کو سنجیدہ چیلنج سے دوچار کر دیا۔

قومی سلامتی کے نظریات میں سماجی سرمایہ کو ڈیٹرنس کے اہم ترین عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جو ملک بحرانی حالات میں اپنے عوام کو کسی مشترکہ مقصد یا علامت کے گرد متحد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط مزاحمت کر سکتا ہے۔ رہبر شہید کی تشییع میں عوام کی وسیع شرکت، تعداد کے مختلف اندازوں سے قطع نظر، اس بات کا اظہار تھی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی اعلی سطح کی سماجی یکجہتی کا حامل ہے، جبکہ بہت سے مغربی تجزیہ کار اس امکان کو بعید قرار دیتے رہے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ذرائع ابلاغ، جو برسوں سے ایران کی تنہائی کا بیانیہ پیش کرتے رہے، اس بار زمینی حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس واقعے کی دوسری تزویراتی جہت ادراکی ڈیٹرنس سے متعلق ہے۔ ڈیٹرنس صرف فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ حریف کسی ملک کے عزم، داخلی اتحاد اور مزاحمت کی صلاحیت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اکثر ریاستیں ایک دوسرے کی فوجی طاقت کا اندازہ لگانے سے پہلے اس ملک کی داخلی یکجہتی اور بحران برداشت کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتی ہیں۔ اگر دشمن کی نظر میں کوئی ملک سماجی اتحاد سے محروم ہو تو اس پر سیاسی، اقتصادی یا فوجی دباؤ بڑھانے کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ایران نے رہبر شہید کی تاریخی تشییع کے زریعے سماجی اتحاد کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔

ایران کی قوت اور استحکام کے تاثر کو نئی تقویت

شہید امام خامنہ ای کی تشییع نے ایران کی ادراکی ڈیٹرنس کی ازسرنو تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ تشییع سے جاری ہونے والی تصاویر اور مناظر نے یہ پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی نظام، بعض مغربی حلقوں کے تصور کے برعکس، کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ مضبوط اداروں، فکری نظام اور وسیع سماجی سرمایہ پر قائم ہے۔ یہ پیغام مستقبل میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے سیاسی اور تزویراتی اندازوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت کی منتقلی لازما ملک میں عدم استحکام کا سبب نہیں بنتی۔

اس تاریخی واقعے کا تیسرا اہم پہلو ادراکی جنگ اور بیانیوں کی کشمکش سے متعلق ہے۔ آج کی دنیا میں جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ عوامی رائے اور ذرائع ابلاغ بھی ان میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ عالمی طاقتیں مختلف بیانیے تشکیل دے کر دنیا کی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شہید رہبر کی تشییع اس تناظر میں ایک زندہ میڈیا کی صورت اختیار کر گئی، جہاں سے لاکھوں تصاویر، ویڈیوز اور مشاہدات کسی بھی سرکاری تجزیے سے پہلے دنیا بھر میں پھیل گئے۔

اس تشییع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ بصری بیانیہ سیاسی بیانیے پر غالب آ گیا۔ جب لاکھوں افراد سڑکوں پر موجود ہوں تو ذرائع ابلاغ بھی وہی منظر بیان کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ذرائع ابلاغ بھی، جو ماضی میں ایران کے بارے میں تنقیدی مؤقف اختیار کرتے رہے، اس بار اس تشییع کے لیے تاریخی، لاکھوں افراد پر مشتمل اور بے مثال جیسے الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ صرف لفظوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کے خلاف جاری بیانیاتی جنگ کے ایک حصے کی ناکامی کی علامت بھی ہے۔

خطے اور دنیا کے لیے شہید امام خامنہ ای کی تشییع کے اہم پیغامات

شہید امام خامنہ ای کی تشییع نے علاقائی سطح پر بھی اہم سیاسی اور تزویراتی پیغامات دیے۔ مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت اور عرب ذرائع ابلاغ کی مسلسل کوریج سے ظاہر ہوا کہ خطے کے ممالک اس واقعے کو صرف ایران کا داخلی معاملہ نہیں سمجھتے۔ مغربی ایشیا کے بہت سے سیاسی حلقوں کے لیے رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد سب سے اہم سوال قیادت کی منتقلی اور ایران کے سیاسی نظام کے استحکام سے متعلق تھا، تاہم تشییع کی تقریبات، ریاستی اداروں کی مسلسل فعالیت اور ملک کے عمومی حالات نے واضح کر دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اقتدار کی منتقلی کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کی ادارہ جاتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت نے خطے کے متعدد ممالک کی جانب سے محور مقاومت کے مستقبل سے متعلق اندازوں پر بھی اثر ڈالا۔

اس تشییع کو عالمی نظام میں طاقت کے بدلتے ہوئے تصور کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ ماضی میں طاقت کا اندازہ زیادہ تر فوجی قوت، معیشت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر لگایا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سماجی استقامت اور ادراکی جواز بھی اسی قدر اہم عناصر بن چکے ہیں۔ جو ملک بحرانی حالات میں اپنی قومی یکجہتی برقرار رکھنے میں کامیاب ہو، وہ مذاکرات، علاقائی بحرانوں اور سیاسی رقابتوں میں زیادہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔

اس تشییع تقریب کا سب سے اہم پیغام شاید عوام سے زیادہ مغربی ممالک کے پالیسی ساز اداروں اور فیصلہ ساز مراکز کے لیے تھا۔ وہ حکمت عملی جو اقتصادی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور محدود فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کو بتدریج غیر مستحکم کرنے کے تصور پر قائم تھی، اب ایک مختلف حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنے نازک ترین تاریخی لمحات میں بھی اتحاد برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کے خلاف عدم استحکام پیدا کرنے پر مبنی کسی بھی حکمت عملی کی سیاسی، سیکیورٹی اور تزویراتی قیمت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

حاصل سخن

شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع اس بات کا اظہار تھی کہ ایران کی اصل طاقت عوام کے اتحاد، نظام کی قبولیت اور مضبوط اداروں میں ہے۔  ان تینوں عناصر نے واضح کر دیا کہ ایران کی طاقت صرف فوجی ساز و سامان یا میزائل صلاحیت تک محدود نہیں بلکہ بحرانی حالات میں قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی اس کی بنیادی قوت ہے، اور یہی خصوصیت بدلتے ہوئے علاقائی نظام میں ایران کے مقام کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔

اس تشییع کی اصل اہمیت اس کے جذباتی یا مذہبی پہلو میں نہیں بلکہ ان تزویراتی پیغامات میں پوشیدہ ہے جو اس نے خطے اور بین الاقوامی نظام کے مستقبل کے لیے دیے ہیں۔ شہید رہبر کی تشییع ایسی طاقت کی علامت بن کر سامنے آئی جسے جدید بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں استقامت پر مبنی طاقت کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی طاقت ہے جو جغرافیائی سیاسی معادلات کو تبدیل کرنے، حریفوں کے اندازوں کو ازسرنو ترتیب دینے اور غالب عالمی بیانیوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس تناظر میں شہید امام خامنہ ای کی تشییع کو کسی ایک دور کا اختتام نہیں بلکہ خطے میں تزویراتی رقابت کے ایک نئے مرحلے کا آغاز سمجھا جانا چاہیے، جہاں اصل مقابلہ صرف سرزمین کے حصول کا نہیں بلکہ ادراک، بیانیے اور اقوام کے عزم پر اثرانداز ہونے کا ہوگا۔

News ID 1940231

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha