مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بعض حلقوں کی جانب سے ایران کو اطلاع اور اعتماد میں لیے بغیر نئے بحری راستے کے اعلان پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد مجاز راستہ وہی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مقرر اور اعلان کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہ کی بحریہ نے ایک انتباہی نوٹس میں کہا کہ چند گھنٹے قبل بعض مراجع نے ایران سے کسی قسم کی مشاورت یا ہم آہنگی کے بغیر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا راستہ متعارف کرایا، جو ناقابل قبول اور مکمل طور پر خطرناک ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام بحری جہازوں اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستے قابلِ قبول ہیں جن کا اعلان اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔ مقررہ بحری راستوں سے ہٹ کر کسی بھی قسم کی آمد و رفت نہ صرف ممنوع ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی تصور کی جائے گی۔
سپاہ کی بحریہ نے خبردار کیا کہ تمام جہاز مقررہ راستوں کی مکمل پابندی کریں اور ابلاغ شدہ بحری گزرگاہوں سے باہر سفر کرنے سے سختی کے ساتھ گریز کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے سپاہ کی بحریہ سے چینل 16 کے ذریعے رابطہ اور ہم آہنگی لازمی ہے، جبکہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف قانونی اور عملی کارروائی کی جائے گی۔
سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں بحری سلامتی اور محفوظ آمد و رفت کے لیے ایران کی جانب سے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کی پابندی ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ