حضرت امام خمینی (رہ) نے دنیا کو امریکہ کے خلاف کھڑا ہونے کا عزم وحوصلہ اور جذبہ عطا کیا

حضرت امام خمینی (رہ) نے انقلاب اسلامی کے ذریعہ عالمی سامراجی طاقتوں کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کرتے ہوئے دنیا کو امریکہ کے خلاف کھڑا ہونے کا عزم و حوصلہ اور جذبہ عطا کیا۔ حضرت امام خميني (رح) نے امريكہ كے رعب و دبدبے كے طلسم كو اس وقت توڑديا جب دنيا والے امريكہ كو ناقابل شكست سمجھتے تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق حضرت امام خمینی (رہ) نے انقلاب اسلامی کے ذریعہ عالمی سامراجی طاقتوں کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کرتے ہوئے دنیا کو امریکہ کے خلاف کھڑا ہونے کا عزم و حوصلہ اور جذبہ عطا کیا۔ حضرت امام خميني (رح)  نے امريكہ كے رعب و دبدبے كے طلسم كو اس وقت توڑديا جب دنيا والے امريكہ كو ناقابل شكست سمجھتے تھے۔

حضرت امام خميني (رح) نے خدا پر مکمل بھروسہ كرتے ہوئے اپني تاريخي اسلامی تحريک كا آغاز كيا اور خدا نے بھي ہر مرحلے اور ہرموڑ پر انھیں مدد اور نصرت فراہم كي  ،آپ (رح) نے جو بھي قدم اٹھايا وہ اسلام كي سربلندي، خدا كي حاكميت ، انسانیت کے احترام  اور عدل و انصاف كے قيام كے لئے تھا۔

حضرت امام خمینی (رہ) مؤمن کامل اوراللہ تعالی کے خاص عبد و متعبد انسان تھے جنھوں نے اپنی گہری بصیرت کے ساتھ انقلاب اسلامی برپا کیا ، انقلاب اسلامی، فوجی کودتا کے ذریعہ نہیں بلکہ عوامی طاقت اور حضرت امام خمینی (رہ)کی بصیرت کے ذریعہ وجود میں آیا۔

انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کو سیاسی، عسکری ، اقتصادی اورثقافتی وابستگی سے نجات عطا کی اورایرانی قوم کو آزادی و استقلال جیسی عظيم نعمت سے نوازا۔

حضرت امام خمینی (رہ) کی حکیمانہ اور صالح قیادت نے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انقلاب  اسلامی کی کامیابی میں سب سے مؤثر کردار حضرت امام خمینی (رہ) کی عظیم شخصیت اور ان کی الہی قیادت کا تھا۔ آپ کی قیادت و رہبری نے ایرانی عوام کے قلوب و اذہان کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ انقلاب اسلامی سے پہلے، انقلاب اسلامی کے دوران، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد نیزصدام کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں ایرانی عوام نے جس طرح امام خمینی (رہ) کا ساتھ دیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ  نے انقلاب اسلامی  کو مختلف خطرات سے محفوظ رکھا اور اس انقلاب کو اپنی اصلی ڈگر سے منحرف نہیں ہونے دیا ، ورنہ  یہ انقلاب  بھی اپنے راستے سے منحرف ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتا لیکن آپ نے اس انقلاب کا سانچہ اس قدر مضبوط ، مستحکم اور عمیق ڈیزائن کیا کہ انقلاب اسلامی کا  یہ ننھا سا پودا 43 برس گزرنے کے بعد ایک تناور درخت کی صورت میں تبدیل ہوگيا جو دفاعی لحاظ سے بہت مضبوط ہے ، دشمنوں نے گزشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصہ میں انقلاب اسلامی کے خلاف  ہر حربہ آزما کردیکھ لیا، لیکن انھیں ہمیشہ شکست اور ہزیمت اٹھانا پڑی ، داخلی انتشار اور بیرونی جنگ ، معاشی اور اقتصادی ناکہ بندی  الغرض ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا اور انقلاب اسلامی کے  دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا ، چونکہ اس نظام کی بنیاد  صداقت و حقانیت کے ساتھ ساتھ " ولایت فقیہ " کے مضبوط اور مستحکم اصولوں پر پراستوار ہے جسے زمانہ کا کوئی تند اور تیز طوفان بھی نہیں ہلا سکتا ۔

حضرت امام  خمینی (رہ)  نے عوام کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: " پشتیبان ولایت فقیہ باشید تا بہ مملکتان  آسیبی نرسد " ولایت فقیہ کے حامی اور ناصر رہیں  تاکہ کوئي آپ کے ملک کو آسیب اور گزند نہ پہنچا سکے۔

حضرت امام خمینی(رہ)  کے اصولوں میں ، خالص اسلام  محمدی کا اثبات، امریکی اسلام کی نفی، اللہ تعالی کے وعدے پر اعتقاد ، مستکبرین پر عدم اعتماد ، عوامی طاقت و عزم پر اعتماد ، محرومین کی سنجیدہ حمایت ، اشرافیت کی مخالفت ، دنیا کے مظلومین کی حمایت ،بین الاقوامی منہ زور طاقتوں کی آشکارا مخالفت، استقلال کی حمایت ، تسلط قبول کرنے کی مخالفت  اور قومی اتحاد پر تاکید جیسے اصول شامل ہیں۔

حضرت امام خمینی(رہ) نے عالم اسلام اور ایرانی تاریخ میں  بے مثال انقلاب برپا کیا،  شہنشاہیت کے غلط اور بوسیدہ نظام کوسرنگوں کرکے صدر اسلام کے بعد اسلامی احکام پر مشتمل پہلی اسلامی حکومت قائم کی  اور اس طرح انھوں نے اپنے تمام وجود کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا۔

حضرت امام خمینی (رہ) کی مسئلہ فلسطین پر خاص توجہ تھی ، وہ مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اہم اور سر فہرست مسئلہ سمجھتے تھے۔ حضرت امام خمینی (رہ) نے مسئلہ فلسطین کو انقلاب اسلامی ایران کی شکل میں ایک ایسا حامی، ناصر اور مددگار عطا کیا جس کے بعد مسئلہ فلسطین ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگیا اور انقلاب اسلامی ایران کی بدولت بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین کے خلاف امریکہ کی تمام گھناؤنی سازشیں ناکام ہوگئیں۔ حضرت امام خمینی (رہ) نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم قدس کےنام سے موسوم کرکے  مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا اور مسئلہ فلسطین کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا۔ حضرت امام خمینی (رہ) مسئلہ کشمیر کو بھی دنیائے اسلام کا اہم مسئلہ سمجھتے تھے۔ وہ مظلوموں کی حمایت کو اپنا مذہبی ، دینی، اخلاقی ، انسانی اور اسلامی فریضہ سمجھتے تھے۔

حضرت امام خمینی (رہ) مسلمانوں کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو اہم سمجھتے تھی ۔ انھوں نے قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا راستہ دکھایا اور ایکد وسرے کی مدد اور پشتپناہی کا درس دیا حضرت امام خمینی (رہ) کا اس بات پر یقین تھا کہ اگر مسلمان ملکر اسرائیل پر ایک ایک بالٹی پانی ڈالیں گے تو اسرائيل غرق اور نابود ہوجائےگا۔ حضرت امام خمینی اچھی طرح جانتے تھے کہ شاہ ایران کی طرح عرب ممالک کے بادشاہ بھی امریکی ایجنٹ اور آلہ کار ہیں ، عرب ممالک کے خائن اور غدار حکمراں مسئلہ فلسطین کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ امریکہ نے عرب عوام پر اپنے ایجنٹ مسلط کررکھے ہیں جن کی وہ بھر پور حمایت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود انھیں عرب عوام پر اعتماد تھا اگر عرب عوام بیدار ہوجائیں تو وہ ایرانی عوام کی طرح عرب ممالک میں قائم  امریکی بادشاہتوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ ایرانی عوام نے جس طرح شاہ ایران کا خاتمہ کرکے ملک میں آزادی اور استقلال کا پرچم بلند کیا اسی طرح عرب عوام بھی اپنے ممالک سے امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں کا خاتمہ کرکے آزادی اور استقلال کا پرچم بلند کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : سید ذاکر حسین جعفری

News Code 1911081

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha