ایشیائی ممالک میں ایران کی فوجی طاقت اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سے برتر ہے

فوجی طاقت کے شعبہ میں امریکی جی ایف پی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ایشیائی ممالک میں ایران کی فوجی طاقت اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سے برتر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے سیاسی شعبہ کے ماہرین کے مطابق فوجی طاقت کے شعبہ میں امریکی جی ایف پی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ایشیائی ممالک میں ایران کی فوجی طاقت اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سے برتر ہے۔

امریکی جی ایف پی انسٹی ٹیوٹ فوجی طاقت کے توازن کے بارے میں  سالانہ رپورٹ شائع‏ کرتا ہے اس نے اپنی 2020 کی رپورٹ میں دنیا کے ممالک کا فوجی طاقت کے حوالے سے ایکدوسرے کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔

امریکی ادارے جی ایف پی کے مطابق ایران فوجی دفاعی طاقت کے لحاظ سے ایشیائی ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے جبکہ روس، چين اور ہندوستان بالترتیب ایک سے تیسرے نمبر پر ہیں۔

امریکی جی ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران دفاعی طاقت کے لحاظ سے اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سے برتر ہے۔

ایران کا فوجی بجٹ مغربی ایشیائی ممالک کی نسبت ایک تہائي ہے سعودی عرب کا فوجی بجٹ 56 ارب ڈالر ہے ، ہندوستان کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر اور اسرائیل کا بجٹ 29 ارب ڈالر ہے ، امریکہ کی طرف سے بھی اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے جس کے بعد اسرائیل کا فوجی بجٹ 67 ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے جبکہ ایران کا فوجی بجٹ صرف 14 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔

امریکہ کی ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران فوجی دفاعی شعبہ میں پیشرفت کی سمت گامزن ہے۔ امریکی جی  ایف  پی کے مطابق 138 ممالک کی فہرست میں ایران 14 ویں نمبر ہے۔ ایران سن 1404 شمسی میں خطے میں پہلی فوجی طاقت بننے کی تیاری کررہا ہے اور ممکن ہے اس سے پہلے ہی وہ اس ہدف تک پہنچ جائے۔

ایران ڈرونز تیار کرنے، فوجی ٹینک بنانے ، فوجی ہیلی کاپٹر، بیلسٹک میزائل بنانے والے سات ممالک میں شامل ہےجبکہ حباب والے تارپیڈو تیار کرنے میں دوسرے نمبر پر ہےاور آبدوزیں بنانے والے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

News Code 1902385

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha