بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں کا ہڑتال کرنے کا فیصلہ

بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں نے مودی سرکار کی نجکاری کی پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے کے نتیجے میں آج ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں نے مودی سرکار کی نجکاری کی پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے کے نتیجے میں آج ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔  سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو) کے مطابق اگست 2015 میں اپنے مطالبات کے لیے مرکزی حکومت کو 12 نکات پیش کئے تھے جس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اس وابستہ دس بڑی تنظیموں کے کروڑوں ملازمین آج کام پر نہیں پہنچے ہیں۔ سی آئی ٹی یو کے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ’بھارتی حکومت بحران میں گھری معیشت کو درست کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ بھارتی حکومت عوامی وسائل اور اداروں کی نجکاری کررہی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مفاد کے قدرتی ذرائع بھی فروخت کئے جارہے ہیں۔ یہ ہڑتال آج صبح 6 بجے سے شروع ہوچکی ہے اور مسلسل 24 گھنٹے تک جاری رہ کرکل ختم ہوگی۔ پورے بھارت  میں 25 کروڑ سے زائد مزدور، ملازمین اور کارکن اس ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس ہڑتال کو بھارت بند کا نام دیا گیا ہے ۔ ٹریڈ یونین کے مطابق انہوں نے مسلسل پانچ برس تک 12 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کا انتظار کیا لیکن نتیجہ صفر رہا۔ تمام تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کا تعین کرکے اس پر عملدرآمد کرایا جائے، دوم تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مزدور پیشہ طبقے کو سوشل سکیورٹی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں کام کے صرف پانچ دن رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے مطالبات بھی 12 نکاتی چارٹر کا حصہ ہیں۔ادھر مودی سرکارنے تمام مزدور تنظیموں کو اس ہڑتال سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے انہیں بھارت بند ہڑتال کے نتیجے میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

News Code 1896852

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =