بھارت میں پر امن مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں 14 افراد شہید

بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کے اکثر بڑے شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جہاں متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک 14 افراد  شہید اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارت بھر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں دارالحکومت دہلی میں نماز جمعہ کے بعد تاریخی جامع مسجد میں مظاہرے کیے گئے جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سمیت دیگر مذاہب کے افراد بھی شریک ہوئے۔دہلی میں احتجاج پرامن انداز میں شروع ہوا جس کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ جانے والے 100 سے زائد مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک کر ان پر لاٹھی چارج کیا۔

نماز جمعہ کے بعد ہزاروں مظاہرین دہلی کی جامع مسجد کے باہر جمع ہوئے اور بھارتی پرچم لہراتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مظاہرین نے مودی ہٹاؤ کے بھی نعرے لگائے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے تقریباً 12 اضلاع میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جبکہ گورکھپور، فیروز آباد ، کانپور اور ہاپوڑ میں بھی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔

گجرات کے شہر احمد آباد میں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کانگریس کے کونسلر شہزاد خان پٹھام سمیت 49 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ 5 ہزار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

News Code 1896353

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =