متعصبانہ پالیسیوں کے باعث کشمیر بھارت کے لیے ویتنام ثابت ہوگا، مرکھنڈے کاٹجو

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث کشمیر بھارت کے لیے ویتنام ثابت ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث کشمیر بھارت کے لیے ویتنام ثابت ہوگا۔ برطانوی جریدے ’دی ویک‘ میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے لکھا کہ مودی سرکار نے وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بڑے پیمانے پر گوریلا وار کا بیج بویا ہے جس کے باعث کشمیر بھارت کے لیے ویتنام جنگ کے مترادف ثابت ہوگی۔ سابق جج نے مزید لکھا ہے کہ جو لوگ آج وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں، وہ جلد ہی وادی سے بڑے پیمانے پر لاشیں آتی دیکھیں گے۔ با لکل ویسے ہی جیسے امریکا میں ویتنام سے امریکیوں کی لاشیں آئی تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی کشمیر کی صورتحال پر سچ بولے۔ سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے مزید لکھا ہے آج کے دور میں انٹرنیٹ اور موبائل ضرورت بن گئی ہے اور ہم سوچ نہیں سکتے کہ دو ماہ سے محروم کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کشمیر میں کرفیو ہٹایا گیا تو عوامی مظاہرے پھوٹ پڑیں گے اور اگر کرفیو نہ اٹھایا گیا تو کشمیریوں کا غم و غصہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے گا۔ بھارتی جج نے مودی سرکار پر واضح کیا کہ وادی بھارتی حکومت کے لیے ایک ایسی ہڈی بن جائے گی جو نہ اُگلی جائے گی اور نہ نگلی جائے گی، ایک فوج دوسرے ملک کی فوج کا تو مقابلہ کرسکتی ہے مگر عوام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بی جے پی سرکار کے اقدام سے وادی کے لوگوں میں بھارت سے نفرت پہلے سے مزید بڑھ گئی ہے۔

News Code 1894220

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 10 =