سعودی عرب کے حکمراں امریکی نوکر، غلام اور مزدور ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں ميں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حکمراں امریکی نوکر، غلام اور مزدور ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی ۔ تہران میں خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں ميں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ  ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حکمراں امریکی نوکر، غلام اور مزدور ہیں۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ امریکی صدر نے سعودی عرب کے دورے کے بعد وطن واپس پہنچ کر کہا کہ ہم نے سعودی عرب سے ٹیکس اور تاوان وصول کرلیا ہم نے سعودی عرب سے مال و دولت وصول کرلیا ، کیا  سعودی عرب کی دولت امریکی دولت ہے ؟سعودی عرب کے حکام کو سرزمین حجاز کے عوام کے حقوق اور مال و زر کو امریکی صدر کو دینے کا کوئی حق نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا بادشاہ امریکی نوکر اور غلام ہے جو مسلمانوں کے مال کو امریکہ کے قدموں پر لٹا رہا ہے۔ سعودی بادشاہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کا خادم ہے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ علاقہ کے عوام کو امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ ریشہ دوانیوں کے بارے میں آگاہ اور ہوشیاررہنا چاہیے  اور سمجھنا چاہیے کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی بادشاہ کی ہمراہی نہیں کرسکتے  کیونکہ انھوں نے دہشت گردی کو فروغ دیکر مسئلہ فلسطین ، شام ، عراق ، یمن اور بحرین کے عوام اور عالم اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ہمیں غداروں کو پہچاننا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے حکمراں قرآن کے فرمان کے خلاف اور امریکی فرمان کے مطابق عمل کررہے ہین اور یہ وہ چیز ہے جسے ہم سبھی جانتے ہیں ۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ سعودی عرب کے حکمراں دعوی کرتے ہیں کہ وہ خادم حرمین ہیں لیکن ان کو جتنا یقین امریکہ پر ہے اتنا اللہ تعالی کی ذات اور پیغمبر اسلام پر نہیں۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے رمضان المبارک کو اللہ تعالی کی رحمت اور بخشش کا مہینہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ہمیں شبہائے قدر کی قدر پہچانتے ہوئے ان راتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

News Code 1872920

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =