حزب اللہ لبنان کے خلاف سعودی عرب اور اسرائیل کا باہمی اتحاد اور تعاون

ایک عرب اخبار کے مطابق وہابی تکفیری گروہ کے ایک رکن نے حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکی، سعودی اور اسرائیلی تعاون اور اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی  نے العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب اخبار السفیرکے مطابق وہابی تکفیری گروہ کے ایک رکن نے حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکی، سعودی اور اسرائیلی تعاون اور اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے۔ اخبـار السفیر نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ  شامی فوج سے الگ ہوکر شام کے باغی گروہ آزاد فوج میں شامل ہونے والے افسر بنام ابراہیم نے تفتیش میں حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکی، سعودی اور اسرائیلی تعاون اور اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے۔ اس نے کہا کہ سعودی عرب کے اعلی فوجی حکام امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لئے باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابراہیم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے النصرہ فرنٹ کے اعلی کمانڈر ابو مالک التلی  کے ہمراہ  لبنان کے علاقہ عرسال میں لبنانی فوج کی چیک پوسٹوں  پر کئی حملے کئے  ۔ شامی باغی گروہ کے افسر نے اعتراف کیا ہے کہ شام کے باغی گروہ آزاد نامی فورس نے لبنان کے اندر کئی بم دھماکے کئے ہیں جن حزب اللہ کو نشانہ بنایا گيا تھا۔

ابراہیم شامی فوج سے الگ ہونے سے قبل شامی فوج میں توپخانہ کا ایک اعلی افسر تھا وہ ابوالنور کے لقب سے معروف تھا اس کا کہنا ہے کہ موک آپریشن روم میں ایک سعودی عرب کے افسرابو جمیل اور اس کے معاون  ابو عبیدہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ لبنان کے علاقہ بعلبک میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور اس سلسلے میں جتنا خرچہ ہوگا وہ سعودی عرب ادا کرےگا۔ ابوالنور کا کہنا ہے کہ شام کی فوج سے الگ ہونے والے بعض دیگر افسروں نے بھی اس سلسلے میں تعاون فراہم کیا اور النصرہ فرنٹ سے اس سلسلے میں وسائل حاصل کئے اور حزب اللہ کے فوجی ٹھکانوں کی معلومات کے سلسلے میں کام شروع کردیا۔ اس نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کا حزب اللہ کے خلاف قریبی تعاون جاری ہے۔

News Code 1868644

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha