مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے، کسی بھی قسم کے شواہد و ثبوت پیش کیے بغیر، تہران کے خلاف مغربی و صیہونی محور کے مخالفانہ مؤقف کو دہرایا ہے۔
اس حوالے سے نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ میں 29 اتحادی اور شراکت دار ممالک کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے، اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین پر پُرتشدد کارروائیوں اور دھمکیوں میں ایران کی مداخلت کی مذمت کرتا ہوں۔ ان میں 27 ستمبر کو رائل ایئر فورس کے اڈے ’فرفورڈ‘ (RAF Fairford) میں پیش آنے والا واقعہ بھی شامل ہے۔
مارک روٹے نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کی ایک ارب آبادی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
چند گھنٹے قبل برطانیہ اور امریکہ سمیت 29 ممالک نے بھی تہران کے خلاف اپنے سابقہ مخالفانہ مؤقف کو دہراتے ہوئے، کسی قسم کے شواہد و ثبوت پیش کیے بغیر ایک بیان جاری کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ ہم فرفورڈ اڈے کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے حوالے سے لندن کے نتائج کی تصدیق کرتے ہیں! ہماری سرزمین پر موجود افراد کو دھمکانے یا نقصان پہنچانے کی ایران کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ ہم تہران کی مخالفانہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور ہائبرڈ سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ فرفورڈ کا واقعہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اپنی سرحدوں سے باہر حملے کرنے کی آمادگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم ہر اس شخص کے خلاف کارروائی کریں گے جو ایران کی نیابت میں مخالفانہ اقدامات کرے گا! ایران کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنی خودمختاری کے تحفظ اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہیں۔
واضح رہے اس سے قبل، برطانوی حکام دعویٰ کر چکے تھے کہ انہوں نے فرفورڈ اڈے پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے اور اس منصوبے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اس نئے واقعے نے ایک بار پھر برطانیہ کے فوجی اڈوں کی سلامتی، بالخصوص امریکی افواج کے زیرِ استعمال تزویراتی اہمیت کی حامل تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بین الاقوامی سطح پر بڑھا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ