مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی کردستان ریجن کے وزیر اعظم مسرور بارزانی کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے۔
عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں لکھا کہ وزیر اعظم بارزانی کے دفتر پر ہونے والے اس غیر ذمہ دارانہ حملے کا ہوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کرد دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان فالس فلیگ سازشوں کے مقابلے میں چوکس رہیں جن کا مقصد ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنا ہے۔
عراقچی نے ایران اور کرد عوام کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صدام حسین اور داعش کے خلاف کرد دوستوں کو تحفظ فراہم کیا اور ہم اپنی سرحدوں پر ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی کے شکر گزار ہیں۔
اس سے قبل عراقی سرکاری خبر رساں ادارے نے کردستان انسداد دہشت گردی ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ دو ڈرونز نے کردستان ریجنل گورنمنٹ کے وزیر اعظم کے دفتر اور مقامی سکیورٹی ڈائریکٹر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد عراقی کردستان میں سکیورٹی صورتحال اور اس کارروائی کے پس پردہ عناصر کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ