13 اگست، 2026، 7:41 PM

روسی صدر کا متنازعہ جزائر کوریل کا تاریخی دورہ، جاپان کا شدید احتجاج

روسی صدر کا متنازعہ جزائر کوریل کا تاریخی دورہ، جاپان کا شدید احتجاج

روسی صدر ولادیمیر پوٹن پہلی مرتبہ جاپان کے ساتھ متنازع جزائر کوریل پہنچ گئے، جس پر ٹوکیو نے شدید احتجاج کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلی مرتبہ روس کے ساخالین خطے میں واقع متنازع جزائر کوریل کا دورہ کیا ہے۔ ان کے اس دورے پر جاپان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔

اسپوٹنک کے مطابق صدر پوٹن نے بحرالکاہل کے بحری بیڑے کی فوجی مشقوں کے آخری مرحلے کا میزائل بردار جنگی جہاز واریاگ پر سوار ہو کر مشاہدہ کیا، جس کے بعد وہ جزیرہ ایتوروپ پہنچے۔

روسی صدر نے اپنے دورے کے دوران مشرقی سرحدوں کی سلامتی سے متعلق ایک اجلاس میں شرکت کی اور علاقے میں مچھلی کی پیداوار اور پروسیسنگ کے ایک کارخانے کا بھی دورہ کیا۔

ایتوروپ کوریل جزائر کے سلسلے کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اس وقت روس کے ساخالین صوبے کا حصہ ہے۔

صدر پوٹن نے جزائر کوریل کے اپنے پہلے ذاتی دورے کے موقع پر کہا کہ روسیوں کے پاس فاتحوں کا جینیاتی کوڈ موجود ہے۔

روسی صدر کے دورے پر جاپان نے شدید احتجاج کیا۔ جاپانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے روسی صدر کے جزائر کوریل کے دورے پر سخت اعتراض کیا۔

روس اور جاپان کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے ہی جزائر کوریل کی ملکیت کا تنازع چلا آ رہا ہے۔ اس علاقائی تنازع کے باعث دونوں ممالک اب تک باضابطہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کر سکے ہیں۔

روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق صدر دیمتری مدودف نے جاپان کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جاپانی حکام کے بیانات زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

مدودف نے کہا کہ جزائر کوریل روس کا حصہ تھے اور روس کا حصہ رہیں گے۔ جو بھی فریق اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا، اسے اپنی خیالی سوچ کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پوتین کا یہ دورہ ایک مرتبہ پھر روس اور جاپان کے درمیان جزائر کوریل کی ملکیت کے دیرینہ تنازع کو نمایاں کر گیا ہے۔

News ID 1940663

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha