مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات لبنان کے لیے شرمندگی، ذلت، مایوسی اور مسلسل رعایتوں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئے، جبکہ مزاحمت ہر قیمت پر اپنا راستہ جاری رکھے گی۔
تفصیلات کے مطابق بعلبک میں اربعین حسینی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نعیم قاسم نے امام حسینؑ، اہل بیتؑ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اربعین، امام حسینؑ کی عظیم قربانی اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے، جبکہ عاشورا عزت، آزادی، حق کی حمایت اور ظلم کے خلاف استقامت کا دائمی پیغام دیتا ہے۔ امام حسینؑ نے واضح کر دیا تھا کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، اور یہی فلسفہ آج بھی اہل ایمان کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا میں شہادت کا سفر حضرت زینبؑ اور قافلۂ اسیران کے ذریعے عالمی پیغام میں تبدیل ہوا۔ حضرت زینبؑ نے یزید کے ظلم کو للکار کر ثابت کیا کہ حق کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔ شہادت کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہوا بلکہ یہ ہر دور میں ظلم کے خلاف جدوجہد کو نئی قوت دیتا رہا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مؤمن صبر، عبادت اور قربانی کے ذریعے طاقت حاصل کرتے ہیں، جبکہ امام حسینؑ کی شہادت آج بھی اہل ایمان کے دلوں میں ایسا جذبہ پیدا کرتی ہے جو کبھی سرد نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا غم کمزوری کی علامت نہیں بلکہ امام مہدیؑ کے ظہور تک جاری رہنے والے عہدِ وفا کا اظہار ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم امام حسینؑ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور مزاحمت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھیں گے۔
انہوں نے دنیا بھر سے کربلائے معلی پہنچنے والے لاکھوں زائرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم اجتماع امام حسینؑ سے وفاداری، بیعت، عشق اور مزاحمت کے تسلسل کی علامت ہے۔ انہوں نے بالخصوص بقاع اور بعلبک کے عوام کو بھی سلام پیش کیا جنہوں نے اربعین کے موقع پر بھرپور شرکت کی۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ آج پورا خطہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، جس کا ہدف لبنان، ایران، غزہ، یمن اور پوری مزاحمتی قوت کو کمزور کرنا اور اسرائیل کو خطے میں امریکی مفادات کا نمائندہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر 2024ء میں لبنان پر صہیونی حملوں کا بنیادی مقصد مزاحمت کا خاتمہ تھا۔ اس مقصد کے لیے سید حسن نصر اللہ، دیگر کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنگ، پیجر حملوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کیے گئے، تاہم یہ منصوبہ ناکام رہا۔
شیخ نعیم قاسم نے مذید کہا کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد رکی، کیونکہ تہران نے جنگ بندی کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔ اگر یہ مفاہمت نہ ہوتی تو جنگ بندی بھی ممکن نہ ہوتی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود اسرائیل نے ایران پر حملہ نہیں کیا کیونکہ واشنگٹن اب بھی ایران کی شرائط کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تمام مذاکرات کا حاصل صرف لبنان کی تذلیل، مایوسی اور مسلسل رعایتیں تھیں، جبکہ اسرائیل نے سیاسی فوائد سمیٹے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مزاحمت، عوام اور باعزت شہری موجود ہیں، اسرائیل اپنے حقیقی مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
آخر میں انہوں نے لبنانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بعض سرکاری ذمہ داران نے قومی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مفادات کو تقویت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ سیاسی طرزِ عمل نہ لبنان کے لیے کوئی کامیابی لا سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ کے اہداف کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
آپ کا تبصرہ