مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ ایرانی سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کی توثیق کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
ایرانی عدلیہ نے پھانسی پانے والوں کی شناخت امید بہزاد اور پوریا صفوت کے ناموں سے کی ہے۔ حکام کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد نے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے اندر براہ راست اور بالواسطہ رابطوں کے ذریعے جاسوسوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کی۔
ایرانی حکام کے مطابق امید بہزاد نے 40 روزہ جنگ کے دوران متعدد مرتبہ فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی مراکز کے جغرافیائی محل وقوع اور حساس معلومات نقشہ سازی کے سافٹ ویئر کے ذریعے موساد سے منسلک نیٹ ورکس کو منتقل کیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے منسلک ایک ٹیلیگرام چینل کے منتظم نے اسے بتایا تھا کہ تصدیق کے بعد یہ معلومات اسرائیلی فوج کے اہداف کے ڈیٹا بیس میں شامل کر کے محفوظ ذرائع سے موساد کو بھیج دی جائیں گی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق پوریا صفوت نے حساس مقامات کی تصاویر اور معلومات ایران دشمن ٹیلی ویژن کو فراہم کیں، جسے ایرانی حکام موساد کے مواصلاتی نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ حکام کا دعوی ہے کہ اس کی فراہم کردہ بعض معلومات کے بعد متعلقہ مقامات پر حملے کیے گئے۔ مجرم نے جنگ کے دوران بلند عمارتوں سے فضائی دفاعی نظام کی ویڈیوز بنا کر بیرون ملک ارسال کیں۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں ملزمان کو سپاہ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس شاخ نے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں صہیونی حکومت کے لیے جاسوسی اور انٹیلی جنس تعاون کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزاؤں کی توثیق کر دی، جس کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ