مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی سلامتی اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تنازع مغربی ایشیا کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے اور کم از کم پانچ دیگر ممالک میں امریکی تنصیبات اور مفادات پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
گارڈین نے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک مختصر جنگ کے بجائے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے تنازع کو جنم دیا ہے، جس سے توانائی کی فراہمی میں شدید رکاوٹ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور حتی کہ عالمی اقتصادی کساد بازاری کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند روزہ نسبتی سکون کے بعد کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک جانب پینٹاگون تقریبا ہر رات ایران پر حملے کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران بھی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
گارڈین کے مطابق گزشتہ بدھ کو اس تنازع میں اس وقت مزید شدت آئی جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے عراق کے اندر الحشد الشعبی کے خلاف فضائی حملوں میں امریکہ کا ساتھ دیا، جن میں کم از کم 20 افراد شہید ہوئے۔
اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے پورے خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ