مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا پابند ہے اور اسے اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔
اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ امریکا اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور مفاہمتی یادداشت کے تحت صہیونی حکومت کو لبنان پر حملے روکنے پر مجبور کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لے گا اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنی ذمہ داریوں پر یکطرفہ طور پر عمل نہیں کرے گا۔
بقائی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں عہد کے بدلے عہد کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اسی وقت تک اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا جب تک دوسرا فریق بھی اپنے وعدوں پر عمل کرتا رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد مکمل طور پر باہمی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے مشروط ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں اور وعدوں کی عدم پاسداری سفارتی عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کا متن انتہائی احتیاط سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں واضح طور پر درج ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں، خصوصاً لبنان، پر ہونا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران حالات پر مسلسل نظر رکھے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی سفارتی ذمہ داریوں سے متعلق فیصلے ایک منظم قومی عمل کے تحت کیے جاتے ہیں، جس میں ملکی نظام کے تمام ادارے شریک ہوتے ہیں، جبکہ جنگ، امن اور مذاکرات جیسے بنیادی فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایران اور عمان مستقبل میں بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اس معاملے پر فیصلہ کریں گے۔
امریکا کی جانب سے ایرانی سرزمین پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے بقائی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کیا تو اس کے سفارتی عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گے۔ ایران کے خلاف ہر کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔"
ترجمان نے امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خلاف ورزیوں کا تسلسل مذاکراتی عمل میں رکاوٹیں پیدا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 13 کے مطابق حتمی معاہدے سے متعلق پیش رفت مختلف شقوں پر عمل درآمد سے وابستہ ہے۔ بعض شعبوں، جیسے بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور تیل کی فروخت سے متعلق استثنا جاری کرنے میں پیش رفت اطمینان بخش ہے، تاہم بعض دیگر معاملات میں سنگین چیلنجز موجود ہیں اور ان میں دوسرے فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
آپ کا تبصرہ