24 جون، 2026، 4:22 PM

ایران اور امریکہ کے درمیان جامع معاہدے میں مدد کے لیے تیار ہیں، روسی وزیر خارجہ 

ایران اور امریکہ کے درمیان جامع معاہدے میں مدد کے لیے تیار ہیں، روسی وزیر خارجہ 

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک جامع، طویل المدتی اور پائیدار معاہدے کے حصول میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز کہا کہ روس ایران اور امریکہ کے درمیان ایک پائیدار معاہدے کے حصول کے لیے ضروری اقدامات انجام دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک جامع اور طویل المدتی معاہدے تک پہنچنے میں معاونت کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے بقول آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کے مفاد میں ہوگا۔

لاوروف نے مزید کہا کہ امکان ہے کہ روس خلیج فارس اور خطے کے ہمسایہ ممالک سے متعلق اجتماعی سلامتی کے منصوبے پر ہونے والے مذاکرات میں بھی شریک ہو۔

روسی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ غزہ میں جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے اور روس فلسطینی عوام کے اپنی آزاد ریاست کے قیام کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ روس کی سرحدوں کے قریب نوآبادیاتی طرز کے فوجی منصوبوں سے دستبردار ہو جائے۔ ان کے مطابق روس مغربی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

لاوروف نے کہا کہ مغربی ممالک نے حال ہی میں روس کے مزید 6 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر کے یوکرین منتقل کر دیے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ روس یوکرین بحران کے حل کے لیے عارضی یا عبوری فارمولوں کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو یوکرین کے بارے میں مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ سنجیدہ اور قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس کے مخالفین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماسکو کی سکیورٹی سے متعلق تنبیہات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ روس یوکرین بحران کے حل کے لیے عارضی اقدامات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرے گا اور اس مسئلے کے حل کی ذمہ داری صرف ماسکو پر عائد نہیں ہوتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس، الاسکا میں ولادیمیر پوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے حوالے سے طے پانے والے معاہدوں کا پابند ہے۔

لاوروف کے مطابق یوکرین کے مسئلے کا سفارتی حل ممکن ہے، تاہم مغربی ممالک اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت سے گریز کر رہے ہیں۔

News ID 1939957

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha