مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف سید عبدالرحیم موسوی نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی جنگ چاہتے ہیں تو پھر مذاکرات کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یہ دوغلا طرز عمل اور تضاد پر مبنی پالیسی ہے۔
میجر جنرل موسوی نے کہا کہ خود کو عالمی طاقت کہنے والے امریکی صدر کے بیانات کسی سنجیدہ سیاسی رہنما کے شایان شان نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف کسی فوجی مہم جوئی کی طرف بڑھا تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک ایسا عبرت آموز معرکہ ہوگا جس کے نتائج اسے دنیا میں مزید دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے سے باز رکھیں گے۔
جنرل موسوی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
17:52 - 2026/02/15
آپ کا تبصرہ