مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ سے وابستہ پارلیمانی بلاک کے رکن حسن فضل الله نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن لبنان کی سرحد کے قریب علاقوں، خصوصاً یارون کے اطراف، میں آبادکاروں کو بسانے کی کوشش کر رہا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی نظریں 1982 کی طرح ایک بار پھر لبنان کی سرزمین پر لگی ہوئی ہیں۔ اس دور میں مزاحمتی قوتوں نے صہیونی آبادکاری کے منصوبے کو ناکام بنایا تھا اور آج بھی ایسے عزائم کے مقابلے میں ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
فضل اللہ نے زور دیا کہ جنوبی لبنان کے باشندے اپنی زمین اور گھروں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاص طور پر دریائے لیتانی کے جنوب میں دشمن کے مقابل ملک کا دفاع یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششیں اسرائیلی جارحیت کے مقابل لبنان اور اس کے عوام کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکیں۔
ایران کے حوالے سے حسن فضل اللہ نے کہا کہ ایران پر بڑھتا ہوا دباؤ دراصل فلسطین، مظلوم عوام اور مزاحمت کی حمایت کی وجہ سے ہے۔ ان کے بقول ایران 1979 سے مسلسل لبنان کی حمایت کرتا آیا ہے اور اس نے کبھی اپنے مفادات نہیں چاہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے جو بالادستی کے خلاف کھڑا ہے اور ہمیں اس کی حمایت کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت اور عوام پر اپنے اعتماد کا بھی اظہار کیا۔
آپ کا تبصرہ